زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 371

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 371 جلد اول ہوں اور ایسی کتاب عورتوں کے کورس میں شامل ہو یا وہ اپنے طور پر پڑھ کر اس پر عمل کریں تو بہت مفید ہو سکتا ہے۔مگر جب تک اس قسم کی کوئی کتاب نہ بنے عورتیں اپنے طور پر ان باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔اس وقت تک اتنا تو ہوا ہے کہ ہم نے عورتوں کو تعلیم کی طرف توجہ دلائی ہے۔اس کے بعد انشاء اللہ تربیت کی طرف بھی توجہ ہو جائے کی تعلیم حاصل کرنے پر انسان سمجھ سکتا ہے کہ اولا د کتنی قیمتی چیز ہے اور اس کی تربیت کرنے کی کتنی ضرورت ہے۔میرا منشاء ہے کہ موجودہ گرلز سکول کو ہائی سکول بنا دیا جائے۔اس کے لئے چندہ جمع ہو رہا ہے اور امید ہے کہ تین چار ماہ میں ہم گرلز ہائی سکول کے لئے زمین خریدنے کے قابل ہو جائیں گے۔کچھ گورنمنٹ کی طرف سے ایڈ (Aid) مل جائے گی، کچھ اور چندہ جمع ہو جائے گا اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ہم 1929ء میں اس کی بنیا د رکھنے کے قابل ہو جائیں گے۔اور لجنہ کی ممبر جوعورتیں تعلیم پارہی ہیں وہ سکول کی تعلیم میں تو مدددیں گی اگر فی الحال تربیت میں مدد نہ دے سکیں۔میرے نزدیک ہمیں زیادہ توجہ جس طرف کرنی چاہئے وہ تعلیم ہے اور وہ بھی مذہبی تعلیم۔یہی تعلیم ہماری اولاد کے ہوش و حواس قائم رکھ سکتی ہے۔میں تو نو جوانوں کی موجودہ رو کو دیکھ کر ایسا بددل ہو گیا ہوں کہ چاہتا ہوں یورپ کی ہر چیز کو بدل دیا جائے۔ہمارے ملک کے لوگ اس طرح دیوانہ وار یورپ کی تقلید کر رہے ہیں کہ اسے دیکھ کر شرم و ندامت سے سر جھک جاتا ہے۔آج درد صاحب نے کہا ہے کہ یورپ جن باتوں کو تنگ آ کر چھوڑ رہا ہے ہمارے ملک کے لوگ ان کی بڑی خوشی اور شوق سے نقل کر رہے ہیں۔مگر میں دس سال سے کہہ رہا ہوں کہ جن باتوں کے خلاف خود یورپ آواز اٹھا رہا ہے انہیں ہمارے ملک کے لوگ ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔وہاں سود کے خلاف شور برپا ہے مگر یہاں اسے رائج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اسی طرح وہاں کے لوگ شراب کی بندش پر زور دے رہے ہیں لیکن یہاں اس کا خاص شوق ظاہر کیا جاتا ہے۔غرض یورپ کی تقلید میں لوگ بالکل اندھے ہو رہے ہیں۔ہمیں نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ دوسروں کو بھی بچانے کی