زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 370
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 370 جلد اول ایک مرض ہے ہمارے ملک میں کہ ماں باپ کوشش کرتے ہیں کہ بچہ کو کوئی تکلیف نہ اٹھانی پڑے حالانکہ بچہ کو تربیت میں جو تکلیف اٹھانی پڑے وہ در حقیقت اس کے لئے راحت ہوتی ہے۔کیونکہ آج اگر ہم بچہ میں کام کرنے کی عادت نہیں ڈالتے ، اچھے اخلاق اس میں پیدا نہیں کرتے تو اس کا لازماً یہ نتیجہ نکلے گا کہ بڑا ہو کر بچہ سخت تکلیف اٹھائے گا اور اس تکلیف میں ہم خود بھی حصہ دار ہوں گے۔پس ہمیں ابتدا سے ہی بچوں کی تربیت اور ان میں اعلیٰ اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بے شک ہمارے مد نظر یہ بات بھی رہے کہ وہاں کے ملکی حالات کی وجہ سے بعض خصوصیات ان لوگوں کو حاصل ہیں لیکن جس حصہ میں ہماری غلطی اور کوتاہی ہو اس کی اصلاح ضرور کرنی چاہئے۔مثلاً ہمارے ملک کے بچوں میں یہ ایک خطر ناک نقص ہوتا ہے کہ ہر ایک الگ الگ چیز لے کر کھانے کی کوشش کرتا ہے۔اس طرح ایک تو چیز زیادہ خرچ ہوتی ہے دوسرے بچوں میں اسراف کی عادت پیدا ہوتی ہے۔علاوہ ازیں ان کے معدے الگ خراب ہوتے ہیں۔مگر علیحدہ کھانے کا ہمارے ملک میں اس حد تک رواج ہے کہ اگر کوئی کسی کی دعوت کرتا ہے تو اس کے آگے کھانا رکھ کر خود رفو چکر ہو جاتا ہے اور مہمان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا اس کی ہتک سمجھتا ہے۔پھر گھروں میں اس طرح ہوتا ہے کہ عورت خاوند کے آگے دستر خوان بچھا کر اور اس پر کھانا رکھ کر خود اور کام کرنے چلی جاتی ہے اکٹھے بیٹھ کر کھانا نہیں کھاتے۔اگر اکٹھے اور مل کر کھانا کھایا جائے تو بہت سا کھانا ضائع نہ ہو اور انتظام بھی قائم رہے۔اس کے لئے تربیت کی ضرورت ہے لیکچروں سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔اس کے لئے ضرورت ہے کہ قوم کے لئے دستور العمل بنایا جائے۔ایک کتاب تیار کی جائے جس میں لکھا جائے کہ عورتوں کو بچوں کی تربیت اس طرح کرنی چاہئے تا کہ عورتیں اسے پڑھ کر اس پر عمل کریں ورنہ یہ کوئی نہیں کر سکتا کہ الفضل‘ اور ریویو کے فائل اپنے پاس رکھ چھوڑے۔جن کے ان مقامات پر نشان لگے ہوں جہاں تربیت وغیرہ کے متعلق مضامین درج ہوں اور ان کو پڑھ پڑھ کر عمل کرے۔لیکن اگر ایسی باتیں ایک جگہ جمع