زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 365
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 365 جلد اول الله عرب کے قبائل لڑتے لڑتے فصلوں وغیرہ کے سنبھالنے یا اور وجوہات کی بناء پر لڑائی عارضی طور پر بند کر کے چلے جاتے تھے۔پھر جو پہلے تیار ہو جاتا وہ آ کر حملہ کر دیتا تھا۔یہی سٹم رسول کریم ﷺ کے وقت میں تھا جو پہلے تیار ہو جاتا وہ آ کر حملہ کر دیتا۔اس لئے اگر کوئی خالص اس مسئلہ کو لے لے تو اس کے لئے اسے سینکڑوں کتا بیں دیکھنی پڑیں گی جنہیں ایک مؤرخ نہیں دیکھ سکتا۔تھیسس لکھنے والا ہی ان کو دیکھ سکتا ہے۔اور وہ ان کتابوں کو دیکھ کر معلوم کرے گا کہ رسول کریم ﷺ کی جنگوں کے کیا اسباب تھے۔بلکہ اس کو بھی محدود کر کے یہ پتہ لگائے گا کہ پہلی جنگ کے کیا اسباب تھے۔یا یہ کہہ لو کہ ان جنگوں میں اشتراک کیا تھا۔پس وہ جب اس مسئلہ کو لے لے گا تو مجبورا اسے عرب کے عادات ، عربی قبائل کے رسم و رواجات ، دنیا کی جنگیں مختلف زمانوں میں جنگوں کے طریقے کے متعلق معلومات حاصل کرنی پڑیں گی اور یہ کام تھیسس لکھنے والا ہی کر سکتا ہے۔مورخ یا سوانح نویس نہیں کر سکتا۔اس کے لئے سپیشلسٹ کی ہی ضرورت ہے۔مؤرخ صرف مصالحہ جمع کر دے گا اس پر اعتراضات نہیں کر سکتا۔کیونکہ اس صورت میں ممکن نہیں کہ وہ تحقیقات کو خوبصورتی سے پیش کر سکے۔یہ کام سپیشلسٹ کا ہی ہے دوسرے کا نہیں۔تو اس راستہ میں یہ مشکلات بے شک ہیں لیکن جب کام شروع ہو جائے تو آسانیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔میرے نزدیک قوم میں امنگ اور وقار پیدا کرنے کے علاوہ یہ طریقہ دوسروں میں بھی ہماری جماعت کی شہرت اور رعب قائم کرنے کا موجب ہوگا اور لکھنے والے کا بھی دنیا میں نام نکلے گا۔ایسے تھیسس سلسلہ کی پراپرٹی سمجھے جائیں گے اور یہ سلسلہ کا کام ہو گا کہ انہیں ملک میں تقسیم کرے۔غرضیکہ یہ ایک نہایت ضروری چیز ہے اس سے علماء کی وہ بد نامی بھی دور ہو جائے گی کہ علماء سلسلہ کی علمی ترقی کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اور اصل بات یہ ہے کہ علماء خود کر بھی نہیں سکتے وہ صرف ہدایات ہی دے سکتے ہیں۔میں ایک دفعہ جارہا تھا کہ کسی نے بنایا یہ گانے کا بہت بڑا ماہر ہے مگر وہ آ آ ہی کر رہا تھا اور بڑے گانے والے ایسا