زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 366
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 366 جلد اول ہی کرتے ہیں۔اسی طرح بڑے علماء بھی سکھا ہی سکتے ہیں۔جس طرح گانے کے استاد اور ماسٹر صرف طرز ہی بتاتے ہیں۔یہ آگے طالب علم کا کام ہوتا ہے کہ وہ اس سے سیکھ کر شعر پڑھا کریں۔اسی طرح علماء بھی صرف رستہ بتا سکتے ہیں۔یہ طالب علموں کا کام ہے کہ وہ ان راستوں پر چل کر ترقی کریں۔اگر ہمارے طالب علم تھیسس لکھیں تو اس طرح علماء ا کی بدنامی بھی دور ہو جائے گی۔علماء کو چاہئے کہ آگے آئیں طلباء کو مدد دیں۔انہیں نقطہ نگاہ بتائیں اور سمجھائیں کہ اس طرح تحقیقات کرو۔اور چونکہ علماء خود یہ کام نہیں کر سکتے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اگر علماء طلباء کو مدد دیں تو اس میں ان کا بھی فائدہ ہے اس لئے انہیں اس میں ضرور دلچسپی لینی چاہئے۔میرے نزدیک جس قدر جلد ممکن ہو اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فلسفہ اخلاق لکھا ہے۔اس موضوع پر میں نے اور بہت سی کتابیں پڑھی ہیں مگر سب اس سے نیچے ہیں۔پس اگر کوئی احمدی تھیسس لکھے اور اس میں وہی حقائق پیش کرے جو آپ نے بیان کئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام بیچ میں نہ آنے دے اور اس مضمون پر مکمل بحث کر کے لکھے کہ میرے نزدیک یہ عندیہ بہت صحیح ہے اور بعد میں جب معلوم کرے کہ پڑھنے والوں پر اثر جم گیا ہے تو لکھ دے کہ اس کے لئے میں حضرت مرزا صاحب کا ممنون ہوں جنہوں نے یہ سب کچھ بیان کیا۔اسی طرح زبان عربی پر یا فلسفہ لغت پر مضمون لکھے اور آخر میں ایک تھیوری ثابت کر کے لکھ دے کہ میں اس کے لئے مرزا صاحب کا ممنون ہوں کہ ان کی کتاب سے مجھے یہ مفید نکتہ ملا تو اس طرح بہت اچھا اثر ہو گا۔عیسائی لوگ ایسا ہی کرتے ہیں۔نہایت عالمانہ مضامین لکھتے ہیں اور آخر میں کہہ دیتے ہیں کہ یہ حضرت یسوع مسیح کی تعلیم سے اخذ کیا گیا ہے۔اس طرح لوگوں کے اذہان قدرتاً اس طرف مائل ہوتے ہیں۔اور ہمارے ایسا کرنے سے یقیناً دنیا حضرت مسیح موعود کی کتابوں کی محتاج ہو گی۔اور جب لوگ محتاج ہوں گے تو ان کے قلوب میں جماعت کی بڑائی پیدا ہو گی اور وہ