زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 364

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 364 جلد اول اس لئے اس نے مختلف کہانیوں کے درمیانی واقعات کی بھی ایک فلم تیار کر کے مشین پر چڑھا دی ہے۔اسی طرح اس نے ہزار ہا اقسام کے انجام کو اکٹھا کر کے ان کی بھی فلم بنا کر اسے بھی مشین پر چڑھا دیا ہے۔اب ایک شخص جو ناول لکھنے کا ارادہ کرتا ہے وہ جب مشین کو چکر دیتا ہے تو اس کے سامنے مختلف واقعات کے آغاز آ جاتے ہیں۔ان میں سے فرض کر و حضرت موسیٰ کا واقعہ آ جاتا ہے کہ ایک عورت کا بچہ تھا۔بادشاہ اس قوم کے نوزائیدہ لڑکوں کو مروا دیتا تھا۔اسے بھی مروانا چاہتا تھا مگر وہ لڑکا قتل ہونے سے اس طرح محفوظ رہا۔اب اسے ناول کی ابتدا کرنے کے لئے ایک بات ہاتھ آگئی جس سے وہ اپنے قصہ کو چلا سکتا ہے۔پھر اس کے سامنے مختلف واقعات کے درمیانی حصے آ جاتے ہیں۔وہ ان میں سے کسی کو لے کر اپنے قصہ میں شامل کر سکتا ہے۔اسی طرح پھر چکر دینے پر مختلف واقعات کے انجام اس کے سامنے آ جاتے ہیں جس سے وہ اپنے ناول کو ختم کر سکتا ہے۔اور اس طرح بغیر کسی خاص محنت اور مشکل کے ناول ختم کر سکتا ہے۔یہ ایک معمولی خیال ہے مگر اس سے کتنا فائدہ ہوگا۔ہر ناولسٹ اس سے ہر ہفتہ ایک ناول لکھ سکتا ہے تو بعض اوقات | ایک معمولی خیال پیدا ہونے سے ایک مفید چیز پیدا ہو جاتی ہے۔خیالات میں جدت پیدا کرنے سے بہت مضامین نکل آتے ہیں۔جنگ کے متعلق ہمارے ہاں قاعدہ ہے کہ جب کوئی مضمون لکھنے بیٹھے گا وہ اس امر کی ضرور کوشش کرے گا کہ فلاں جنگ کی وجہ کیا تھی۔نقطہ نگاہ کے لحاظ سے اس میں ایک چیز ہے جس پر مصنفین نے توجہ نہیں کی۔وہ ہر جنگ کی وجہ معلوم کرنا چاہتے ہیں، بہت تحقیق کرتے ہیں کہ فتح مکہ کا سبب کیا ہوا۔جنگ احد کیوں ہوئی۔حالانکہ عرب کی لڑائیوں کے متعلق اس کی ضرورت نہیں۔جو سپیشلسٹ ہو گا وہ یہ دیکھے گا کہ اُس وقت جنگوں کے طریق کیا تھے۔اور اس کے لئے اسے نئے راستے تلاش کرنا پڑیں گے۔دنیا کی تاریخ پڑھ کر معلوم کرنا ہوگا کہ اُس زمانہ اور موجودہ زمانہ کی جنگوں میں کیا فرق ہے۔اُس زمانہ میں جنگوں میں ایک تسلسل ہوتا تھا۔یعنی پرانی جنگوں کو رکھ چھوڑتے تھے۔کئی کئی سال تک لڑائی ختم نہیں کرتے تھے۔اس زمانہ میں ایسا نہیں۔