زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 31

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 31 جلد اول نعمت باری تعالیٰ پر ہم شکر کریں گے وہ بڑھ بڑھ کر دی جائے گی۔پس انسان اگر کوئی نیکی کرے تو اسے چاہئے کہ بہت بہت شکر بجالائے تا کہ اور نیکیوں کی توفیق ملے اور وہ متقی بن جائے۔سهی آٹھواں ذریعہ سُبحَانَ الله وَالحَمدُ لِلهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَالله اَكْبَرُ پڑھتار ہے۔اس میں یہ سر ہے کہ جو کسی کی تعریف کرے وہ ممدوح چاہتا ہے کہ یہ بھی ایسا ہی بن جائے۔نبی کریم یا اللہ نے لا الہ الا اللہ پر زور دیا۔اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک ثابت کیا تو خدا نے فرمایا اے نبی ! ہم نے تجھے بھی دنیا میں فرد بنا دیا۔جو اللہ اکبر کہہ کر خدا کی دل و جان اور اپنے عمل سے بڑائی بیان کرے اسے اللہ بڑا بنا دے گا۔اور جو اس کی تسبیح کرے گا خدا اسے پاک بنا دے گا۔اور جو اس کا حامد بنے گا وہ محمود ہو جائے گا۔نواں ذریعہ نمازوں سے اپنی اصلاح کرے۔کیونکہ فرماتا ہے اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ 18 نماز نا پسند کاموں سے روکتی ہے۔نماز معراج المؤمنین یعنی مؤمنوں کو ترقیات روحانی دینے والی ہے۔پس نمازیں بہت پڑھو تا کہ تقویٰ حاصل ہو اور تم میں فرمانبرداری کی روح پیدا ہو جائے۔دسواں ذریعہ اللہ تعالیٰ کے جلال و جمال کا معائنہ کرتا رہے۔جلال کے متعلق فرماتا ہے اَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمُ أَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسْكِنهم إنَّ فِي ذلِكَ لايت أَفَلَا يَسْمَعُونَ 19 یعنی کیا یہ بات ان کو ہدایت نہیں دیتی کہ اس پہلے کئی سنگتوں کو ہم نے ہلاک کیا اور یہ ان کے مکانوں کے کھنڈروں میں چلتے پھرتے ہیں۔اس میں بہت سے نشان ہیں کیوں نہیں سنتے۔جب تم دیکھو گے کہ خدا تعالیٰ کے نافرمانوں کا انجام یہ ہو گا اور جس ساز و سامان دنیوی کے لئے خدا کو ناراض کیا اس کا انجام یہ ہے تو لا محالہ فرمانبرداری کی طرف توجہ ہوگی۔اور جمال یعنی انعامات کے متعلق اس کے ساتھ ارشاد ہوتا ہے اَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنْفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ 20 کیا نہیں غور کرتے کہ ہم