زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 361

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 361 جلد اول اس صورت میں بھی وہ ڈگری کا مستحق سمجھا جائے گا۔پس ان دونوں طرز پر تھیسس لکھنے والا دنیا کی ترقی میں مفید ہوتا ہے۔اس کے علاوہ دو اور فائدے تھیسس کے ہیں۔ایک لکھنے والے کی اپنی ذات کے لئے اور دوسرا دنیا کے علوم پر آئندہ اثر کے لحاظ سے۔ذات کے لئے یہ کہ تحقیقات سے اس میں ایک خاص ملکہ پیدا ہو جاتا ہے کہ نئی باتیں کس طرح نکالی جاتی ہیں اور دنیا کے آئندہ علوم پر اس کا عمدہ اثر اس طرح پڑتا ہے کہ آئندہ تھیسس لکھنے والے کے لئے وہ مشکلات بھی اور آسانیاں بھی پیدا کر دیتا ہے۔مشکلات تو اس طرح کہ آئندہ لکھنے والے کونئی باتیں ایجاد کرنی پڑیں گی۔اور آسانیاں اس طرح کہ آئندہ لکھنے والے کے لئے وہ دائرہ کو محدود کرتا جائے گا۔اور یہ دونوں باتیں مفید ہیں۔طالب علموں کے لکھے ہوئے تھیسس علماء کی رائے ہے کہ بڑی بڑی بلند پایہ تصانیف ثابت ہوئی ہیں۔آکسفورڈ یونیورسٹی پریس انہیں شائع کرتا رہتا ہے اور وہ بہت بلند درجہ رکھتی ہیں۔علم الاخلاق پر تھیسس لکھنے والے ایک طالب علم کو وہیں پر و فیسر بنا دیا گیا تھا اور اس وقت وہ بہت بڑے پروفیسروں میں شمار کیا جاتا ہے۔پس یہ ایک نہایت مفید چیز ہے اور اس کے ذریعہ طالب علم میں مطالعہ ، تحقیق اور وقار کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔کیونکہ اگر وہ نہ لکھے تو فیل ہوگا اور اگر پرانی باتیں لکھے گا جب بھی فیل ہی ہو گا۔اس لئے وہ جب لکھے گا کوشش کرے گا کہ نئی نئی باتیں لکھے اور اس لئے وہ خوب مطالعہ اور تحقیق کرے گا۔اور جب وہ نئی نئی باتیں دنیا کے سامنے پیش کرے گا تو ضروری ہے کہ ہر کوئی اس کی قدر کرے جس سے اس میں وقار پیدا ہوگا۔لوگ یوں بھی رسائل اور کتب لکھتے ہیں مگر چونکہ وہ تھیسس نہیں ہوتے اس لئے لوگ ان پر زیادہ توجہ نہیں دیتے۔لیکن تھیسس چونکہ محنت اور تحقیقات سے لکھا جائے گا اس لئے لوگ اسے اپنی لائبریریوں میں رکھنے پر مجبور ہوں گے۔اس سے ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہو گا کہ لوگ ہماری جماعت کو علمی جماعت سمجھیں گے۔ضروری نہیں کہ تھیسس مذہبی