زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 357
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 357 جلد اول جائے جو محمد رسول اللہ کو دنیا کا ایک قابل قدر وجود تسلیم کرلے تو میں سمجھتا ہوں یہی بہت بڑا کام ہے۔کیونکہ وہ ایک پیج ہے اس کا بیٹا یقینا ترقی کر کے آپ کو نبی ماننے لگے گا۔تو ہر جگہ کے کام کی نوعیت الگ الگ ہوتی ہے۔پس میں اس وقت کارکنوں، کام لینے والوں اور اخبار نویسوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ مبلغین کے کام کو ایسے رنگ میں دنیا کے سامنے لائیں کہ لوگوں میں قربانی کا مادہ پیدا ہو۔جب کسی کے ذہن میں کوئی کام ہی نہ ہو تو شوق کس بات کے لئے پیدا ہو گا۔اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ ایک خطر ناک جنگ ہو رہی ہے اور دشمن سے سخت مقابلہ ہے تو ہزاروں لوگ اس میں حصہ لینے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔یہ یاد رکھنا چاہئے کہ سب لوگ بزدل نہیں ہوتے جو جنگ کے نام سے ڈر جائیں۔بلکہ سینکڑوں ہزاروں آدمی ایسے ہوتے ہیں جو متاثر ہی اُس وقت ہوتے ہیں اور جن کے دلوں میں جوش اُسی وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ دیکھیں کہ خطر ناک جنگ ہو رہی ہے۔لیکن کام کو عمدگی سے پیش نہ کرنے کی وجہ سے یہ نقص پیدا ہورہا ہے کہ لوگوں میں تبلیغ کے لئے کوئی خاص جوش پیدا نہیں ہوتا۔ایک مبلغ جب خط لکھتا ہے تو اختصار سے کام لیتا ہے اور جو باتیں پہلے بیان کر چکا ہے ان کی طرف صرف اشارہ ہی کر دینا کافی سمجھتا ہے۔آگے یہ ہمارا کام ہے کہ اس سلسلہ کو ملا کر اور پہلی اطلاع شامل کر کے اسے مکمل کر کے حقیقی عظمت کے ساتھ اسے لوگوں کے سامنے لائیں۔پس میں کارکنوں اور کام لینے والوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ستی کو ترک کر دیں اور مشنوں کے کام کو متواتر لوگوں کے سامنے لائیں۔اس وقت ہمارے مختلف مقامات پر بارہ مشن ہیں لیکن اخبار میں کوئی خبر کسی کے متعلق نہیں ہوتی اور مدتوں کوئی خبر نہیں ہوتی حالانکہ کام بہت عظیم الشان ہو رہا ہے۔اب پڑھنے والے کیا سمجھیں گے کہ کیا کام ہو رہا ہے۔وہ تو یہی کہیں گے وہ بیکار بیٹھے ہیں۔اور ان کی مشکلات اور قربانیوں اور ان ہزاروں خطرات سے جن سے انہیں گزرنا پڑتا ہے کسی کو آگا ہی نہیں ہو گی۔پس میں اس وقت ان دونوں نقصوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آئندہ اخبارات ہمارے مشنوں کی رپورٹوں سے پر