زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 351
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 351 جلد اول احمدی مبلغ اپنے کام نمایاں رنگ میں پیش کیا کریں 24 اکتوبر 1928ء افسران صیغہ جات صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب در دایم۔اے مبلغ انگلستان کے اعزاز میں دعوت طعام دی گئی جس میں حضرت خلیفة السیح الثانی بھی شامل ہوئے۔اس موقع پر حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا۔”ہمارے ملک میں اور غیر ممالک میں بھی یہ ایک مثل ہے کہ دو پہر کے کھانے کے بعد آرام کرو اور شام کے کھانے کے بعد چہل قدمی کرو۔اس کی بناء پر میں سمجھتا ہوں کہ دو پہر کے کھانے کے بعد آرام کرنا چاہئے۔خصوصاً ان لوگوں کو جنہیں معدے کی تکلیف ہو اور خصوصاً مجھے جسے اسہال کی شکایت ہے۔درد صاحب نے اس وقت جو کچھ بیان کیا ہے میں سمجھتا ہوں وہ بھی اسی مثل کے اثر کے ماتحت وضاحت سے بیان نہیں کر سکے حالانکہ تقریر کرنے کے لئے یہ نہایت عمدہ موقع تھا۔ذاتی تعلقات قائم کرنا نہایت عمدہ چیز ہے اور ان کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔تعلقات ذاتی دوستی کی بناء پر نہیں ہونے چاہئیں۔ذاتی دوستی تو انسان اسی سے رکھتا ہے جس سے مزاج مل جائے۔مگر کام لینے کے لئے ان لوگوں سے بھی تعلقات رکھنے پڑتے ہیں جن سے مزاج نہ ملے۔بلکہ زیادہ انہیں سے رکھنے پڑتے ہیں جن سے مزاج نہیں ملتا۔کیونکہ ایسے شخص سے اگر ذرا بھی بیگانگی برقی جائے تو وہ سمجھتا ہے میری طرف توجہ نہیں کی گئی۔آج ہی مجھے ایک خط موصول ہوا ہے۔ایک شخص نے جو باہر گیا ہوا ہے لکھا ہے قادیان میں میری ہمشیرہ فوت ہو گئی لیکن ناظر صاحبہ نے مجھے اطلاع نہیں دی۔اور لکھا ہے اگر مجھ سے ان کے پہلے تعلقات ہوتے تو وہ ضرور