زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 346

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 346 جلد اول در دصاحب نے وہ طریق بیان کیا ہے کہ کس طرح انہوں نے ہمسایوں پر اثر ڈالا۔یہ اپنی ذات میں ایک لطیفہ بھی ہے اور مبلغین اس سے بہت فائدہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔لیکن ایک اور فائدہ جو سکول میں اس سے حاصل کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ درد صاحب نے اپنا تجربہ بیان کیا ہے کہ جو دل ایک بند قلعے کی طرح تھے جس میں کسی طریق سے ان کا داخلہ ممکن نظر نہیں آتا تھا، جس کے لئے تمام کوششیں ناکام رہیں ، جہاں تمام دعوتیں اور دیگر با تیں فضول ثابت ہوئیں ان میں وہ بچوں کے ذریعہ داخل ہو گئے۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ماں باپ کے قلوب میں گھر کرنے کا آسان ذریعہ ان کے بچوں پر فتح پانا ہے۔یہ ایک اتفاق تھا یا یوں سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاؤں کو سنا کہ کچھ لڑ کے سٹیمپ لینے کی خاطر ان کے پاس آگئے ممکن ہے وہ انہیں بنگال کا جادو گر ہی سمجھتے ہوں اور ان کا خیال ہو کہ یہ ہمیں اپنےmagic wand سے دور دراز ممالک کے سٹیمپ منگواد گا۔اور اس وجہ سے وہ ان کے پاس آگئے۔پھر درد صاحب نے ان دو بچوں کے ذریعہ ان کے ماں باپ کے قلوب پر فتح پائی۔تو سکول کا انچارج جس کے پاس سینکڑوں kiddies( بچے ) ہوتے ہیں ان کے ذریعے سے وہ کتنے لوگوں کے قلوب کو فتح کر سکتے ہیں۔جب درد صاحب نے دو بچوں کے ذریعہ محلہ کے بند دروازوں کو اپنے لئے کھلوا لیا اور ایسی قوم کے کئی گھروں کو مسخر کر لیا جو علیحدہ رہنے والی ہے تو جس کے پاس 500 دروازے ہوں وہ کتنے گھروں میں داخل ہو سکتا ہے۔مگر قابل غور امر یہ ہے کہ کیا ہم ان دروازوں سے وہی کام لیتے ہیں؟ کیا ہم ان کے والدین کے قلوب کو مسخر کرتے ہیں؟ کیا ہزاروں گھر ایسے نہیں جن میں ہمارے لئے محبت کے جذبات پیدا ہو سکتے ہیں اور کئی کھڑکیاں ہمارے لئے ایسی کھل سکتی ہیں جن سے سرد ہوائیں آئیں؟ مگر غلط طریق کے باعث بجائے محبت کے جذبات کے انہیں کھڑکیوں سے ہمارے لئے دوزخ کی کوئیں آتی ہیں۔اگر ایسا ہی ہے تو ہم ایک بہترین چیز سے بدترین کام لے رہے ہیں۔درد صاحب کا تجربہ ہے کہ والدین کے قلوب فتح کرنے کا ذریعہ بچے ہیں۔پس اس وجہ سے میں