زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 324

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 324 جلد اول سے جو غرض تھی وہ پوری ہو رہی ہے یا نہیں؟ اس پر سب اہل الرائے نے کہا نہیں پوری ہو رہی اور اسے توڑ دیا جائے۔اُس وقت ایک حضرت خلیفہ اول اور ایک میں اسے قائم رکھنے کے حق میں تھے۔اُس وقت اس مدرسہ کو توڑنے کے متعلق اس قدر جوش پیدا ہو گیا کہ بعض مخلصین نے میرے متعلق سخت الفاظ بھی استعمال کئے اور کہا یہ انگریزیت کا دلدادہ ہو گیا ہے۔حضرت خلیفہ اول کو جب معلوم ہوا کہ میں ان کا ہم خیال ہوں تو مجھے اپنے پاس کی بلا کر باتیں سناتے اور فرماتے کہ میں وہ باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک پہنچا دوں۔میں جاتا اور موقع دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں وہ باتیں عرض کر دیتا۔بہر حال میں کہ سکتا ہوں کہ دونوں مدرسوں کے قیام میں میرا حصہ ہے۔پس اس مدرسہ سے جسے میں نے آگ میں پڑنے سے بچایا اگر ایسے کارکن نہ پیدا ہوں جو سلسلہ کے عمود ہوں تو بہت رنج کی بات ہوگی۔پس قطع نظر خلافت اور اس ذمہ داری کے جو مجھ پر عائد ہے اس لئے کہ میں نے ان مدرسوں کو قائم رکھنے کی کوشش کی میں اس وقت یہاں اعلان کرتا ہوں کہ ہمیں ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو اپنی زندگی دین کے لئے وقف کریں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ میں اس مدرسہ کے طلباء کو دنیا کی ترقی سے روکتا ہوں۔یہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔مگر جب دین کے لئے ضرورت ہو تو انہیں دین کو دنیا پر مقدم کرنا چاہئے۔دنیا کی ترقی حاصل کرنا گناہ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے متعلق فرماتے ہیں :۔لفَاظَاتُ الْمَوَائِدِ كَانَ أَكُلِى وَصِرْتُ الْيَوْمَ مِطْعَامَ الْأَهَالِي 4 ایک وقت تھا کہ میں دوسروں کے بچے ہوئے ٹکڑے کھاتا تھا مگر اب ہزاروں میرے دستر خوان پر کھاتے ہیں۔تو دنیا کی ترقی حاصل کرنا گناہ نہیں مگر نیت یہ ہونی چاہئے کہ جب دین کے لئے ضرورت ہوگی اس وقت خدمت دین کے لئے حاضر ہو جاؤں گا۔اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں کہ خان صاحب جس کام کے لئے جارہے ہیں خدا تعالیٰ