زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 27
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 27 جلد اول میں پڑنا امن کا محل ہوتا ہے اور امن کا نہ ہونا تبلیغ میں روک ہوتا ہے۔میں لاہوریوں سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا کہ میں سیاست میں پڑنے سے ڈرتا ہوں۔سیاست صداقت کے خلاف، احسان کے خلاف، شریعت کے احکام کے خلاف ہے۔یہ ایسا زہر ہے کہ جس جماعت میں اس زہر نے اثر کیا ہے پھر وہ ترقی نہیں کر سکی۔اس پر بڑا زور دو۔اس وقت سیاست کی ایک ہوا چل رہی ہے۔یہ تبلیغ میں بڑی رکاوٹ ہے۔بعض لوگ اس سلسلے میں اس لئے نہیں داخل ہوتے کہ اس نے وفاداری کی تعلیم دی ہے۔پس تم سیاست میں پڑنے سے لوگوں کو روکو۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی تعلیم دو۔تقویٰ کے حصول کے ذرائع ( حضرت مصلح موعود ظا یہ اسیح الثانی کی تقریر سے لئے ہوئے نوٹوں کی بناء پر تار کیا گیا۔اکمل ) اللہ تعالیٰ سورۃ مائدہ میں فرماتا ہے وَاتَّقُوا اللهَ وَاسْمَعُوا تقویٰ کی تعریف وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفُسِقِينَ 6 اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اچھی طرح پر اس کے احکام کی فرمانبرداری کرو اور اللہ نا فرمان لوگوں کو کامیاب نہیں کرتا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ تقوی فرمانبرداری کا نام ہے۔اور فرمانبرداری محبت کی وجہ سے کی جاتی ہے یا فرمانبرداری کس طرح پیدا ہو خوف کی وجہ سے۔محبت حسن و احسان کے مطالعہ سے پیدا ہوگی اور خوف جلال کے مطالعہ سے۔چونکہ انسانی فطرت میں بھی دو باتیں ہیں اس لئے سورۃ فاتحہ میں ان دونوں سے کام لیا گیا ہے۔فرماتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّT NANON NNOUN یہ تمام احسان یاد دلا کر کہ ایک پہلو سے یہی حسن بھی ہے لوگوں کو اپنی فرمانبرداری کی طرف متوجہ کیا ہے۔چونکہ بعض طبائع بجز خوف دلانے کے فرمانبرداری نہیں کرتیں اس لئے ان کے لئے فرما یا مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ : یعنی جزا و سزا کا بھی میں مالک ہوں۔