زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 320

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 320 جلد اول قلوب ہی محسوس نہیں کرتے بلکہ کفار بھی محسوس کرتے رہے اور اب بھی محسوس کرتے ہیں۔اسی طرح اس وقت ہمارے مبلغ جو کام کرتے ہیں دنیا کے لحاظ سے وہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔کیونکہ ان کے پاس نہ اسباب ہیں اور نہ مال مگر میں سمجھتا ہوں ہر ایک مبلغ جو کام کے لئے نکلتا ہے وہ ایک نئی سلطنت کی بنیاد ڈالتا ہے۔بلکہ میں یہ کہوں گا کہ نئی دنیا کی تعمیر میں حصہ لیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کشف ہے آپ نے نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کیا۔1 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہم سے نئے ملکوں کا ہی وعدہ نہیں فرمایا بلکہ نئی دنیا بنانے یعنی موجودہ دنیا کو بدل دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔پھر نئی دنیا کا ہی وعدہ نہیں فرمایا بلکہ نیا آسمان بنانے کا بھی وعدہ فرمایا ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ شریعت بدل دی جائے گی۔شریعت اب مکمل ہو چکی ہے اس لئے یقیناً اس کے اور معنی ہیں۔اور وہ آسمان جس کا ذکر ہے وہ یہی ہے جو اس زمین پر ہے۔اور اس الہام کا یہ مطلب ہے کہ حاکم اور محکوم دونوں میں تغیر کر دیا جائے گا اور اس طرح نیا آسمان اور نئی زمین ہو جائے گی۔دنیا میں کئی تغیرات ہوتے ہیں جو صرف حاکموں سے تعلق رکھتے ہیں۔اسی طرح کئی تغیرات ہوتے ہیں جو صرف محکوموں سے تعلق رکھتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام میں یہ بتایا گیا ہے کہ جتنے حکومت کرنے والے طبقے ہیں اور جتنے محکوم طبقے ہیں سب میں تغیر پیدا کر دیا جائے گا۔اس ظاہری آسمان اور زمین میں تغیر تو نظر آ ہی رہا ہے مگر ہمیں جو نیا آسمان اور نئی زمین بنانی ہے وہ دینی لحاظ سے بھی ہے۔یعنی دینی تغیرات بھی ہوں گے۔پس ہمارے مبلغوں کا تبلیغ کے لئے جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ ایسی حرکت ہے جیسی زلزلہ کے وقت ابتدا میں ذراسی حرکت پیدا ہوتی ہے۔زلزلہ کی پہلی حرکت بہت خفیف ہوتی ہے مگر بڑھتے بڑھتے اتنی پُر زور ہو جاتی ہے کہ زمین بل جاتی ہے اور شہروں کے شہر گر جاتے ہیں۔اس لحاظ سے ہم مبلغین کے جانے اور آنے پر خوشی بھی کرتے ہیں اور جو روکیں ان کے رستہ میں پیدا ہوتی ہیں ان سے رنج بھی پہنچتا ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی