زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 318

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 318 جلد اول خانصاحب منشی فرزند علی صاحب کی انگلستان روانگی 21 اپریل 1928ء بعد نماز عصر طلباء مدرسہ احمدیہ نے مکرم منشی فرزند علی خان صاحب کے ولایت تشریف لے جانے کی تقریب پر ان کے اعزاز میں دعوت چائے دی جس میں حضرت خلیفہ المسح الثانی بھی بنفس نفیس شامل ہوئے۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی۔و ایڈریسوں کا دیا جاتا تو ایک رسم ہے جو اس وقت ہمارے ملک میں جاری ہے لیکن میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت کے ایڈریس اپنے اندر ایک خصوصیت رکھتے ہیں۔وہ خالی رسم و رواج کے ماتحت نہیں ہوتے بلکہ اپنے اندر حقیقت رکھتے ہیں۔اس لئے کہ دنیا میں ایڈریس جن امور پر دیئے جاتے ہیں وہ ایسے ہوتے ہیں جو د نیوی لوگوں کی نگاہ میں عظیم الشان امر ہوتے ہیں اور دنیوی حالات کے لحاظ سے وہ مواقع خاص اہمیت رکھتے ہیں لیکن اس کے مقابلہ میں ہمارے تمام کام دنیوی لحاظ سے اتنے کمزور اور اتنے حقیر نظر آنے والے ہوتے ہیں کہ ان پر کسی قسم کی خوشی ظاہری اسباب کے لحاظ سے ناممکن نظر آتی ہے۔پس ہمارے ایڈریسوں میں یا خوشی کی ان مجالس میں جو کسی مبلغ کے آنے یا جانے کے موقع پر منعقد کی جاتی ہے جو چیز اصل محرک ہوتی ہے وہ وہی امید ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے ہم میں پیدا کر دیا ہے۔ہم اس وقت اس حالت کو نہیں دیکھتے جس میں سے گزر رہے ہوتے ہیں بلکہ اس وقت ہماری آنکھوں کے سامنے وہ نظارہ ہوتا ہے جو ایمان کی آنکھ سے نظر آتا ہے۔اس نظارہ کو دیکھنے کے لئے جسمانی آنکھیں معذور ہوتی ہیں مگر روحانی آنکھوں۔ں سے وہ دور ر مستقبل میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ہمیں اپنے کسی مبلغ کی