زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 309
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 309 جلد اول مجھے اس بات پر نہایت خوشی ہے کہ طالبات اپنے فرائض کے ساتھ انس اور محبت رکھتی ہیں۔اور اس بات کو بجھتی ہیں کہ تعلیم کے ذریعہ ان کی علمی اور روحانی ترقی ہوگی اور وہ جماعت کے لئے مفید بن سکیں گی۔لیکن خالی احساس کام ہو جانے کے مساوی نہیں ہو جایا کرتا۔کیسی ہی تڑپ ہو، کتنی ہی خواہش ہو جب تک صحیح ذرائع حاصل نہ ہوں اور ان پر عمل نہ کیا جا سکے اُس وقت تک کوئی شخص کامیاب نہیں ہو سکتا۔دیکھو اگر کوئی سردی کے موسم میں ساری رات کنویں سے پانی نکالنے کی مشقت برداشت کرے تو اس طرح روٹی نہ پک جائے گی۔کیوں؟ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے روٹی پکنے کے لئے جو قانون مقرر کیا ہے اس کی اتباع نہیں کی گئی۔میرے نزدیک ہماری غرض تبھی پوری ہو سکتی ہے جب کام ان اصول کے ماتحت کیا جائے جو اس کام کے مفاد کے ساتھ وابستہ کئے گئے ہیں۔میں سمجھتا ہوں سب سے اہم بات جس کی ان لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ لڑکیوں اور خواتین کی آواز بلند ہو۔اس میں نرمی اور ہچکچاہٹ نہ ہو۔دلیری، ارادہ اور قوت پائی جائے۔میرے نزدیک ہماری عورتیں کوئی کام کرنے میں اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک ان کی آواز میں قوت اور شوکت ایسی نہ ہو جو پختہ ارادہ رکھنے والے اور کام کرنے والے لوگوں کی آواز میں ہوتی ہے۔تقریر کی نصف سے زیادہ طاقت آواز میں ہوتی ہے۔اگر آواز اس طرز پر نکلے کہ اس میں شبہ اور تر دو پایا جائے اور یہ خیال ہوتے کہ نہ معلوم سننے والے میری بات قبول کریں گے یا نہ کریں گے تو اس کا کچھ اثر نہ ہوگا۔ہماری جماعت میں ایک مولوی صاحب ہوتے تھے جو بڑے عالم تھے۔مگر اس طریق سے گفتگو کرتے تھے کہ گویا انہیں اپنی بات پر آپ شبہ ہے۔جب وہ کسی کے سامنے کوئی دلیل پیش کرتے اور وہ اس پر اعتراض کرتا تو ڈر جاتے۔ایک دفعہ یہ واقعہ ہوا کہ انہوں نے ایک شخص سے کہا حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات تمیں آیات سے ثابت ہوتی ہے۔اس نے کہا آپ کوئی آیت پیش کریں۔اس پر انہوں نے ایک آیت پڑھی۔اس شخص نے کہا