زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 308
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 308 جلد اول طالبات مدرسہ خواتین کے جلسہ دعوت میں تقریر J 14 مئی 1926ء کی شام طالبات مدرسہ خواتین نے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ سید اللہ صاحب مبلغ شام کے اعزاز میں دعوت کی۔جس میں حضرت خلیفتہ لمسیح الثانی بھی شامل ہوئے۔اس موقع پر حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی۔ہر ایک شخص جو اپنے ہاتھ سے کوئی پودا لگاتا ہے اسے اس پودے سے قدرتی طور پر انس اور محبت ہوتی ہے۔خصوصاً ان پودوں سے جن کے متعلق اسے خیال ہوتا ہے کہ ہمیشہ اس کے لئے ذکر خیر جاری رکھ سکیں گے۔جو لوگ درخت بھی اپنے ہاتھ سے لگاتے ہیں وہ انہیں پیارے ہوتے ہیں۔حتی کہ جب ان کے درخت بعض حادثات یا دشمنوں کے ذریعہ کالے جاتے ہیں تو وہ روتے ہیں حالانکہ درخت بول نہیں سکتا اور ذکر خیر کو زبان کے ذریعہ جاری نہیں رکھ سکتا۔گو درخت سے فائدہ اٹھانے والے کہہ دیا کرتے ہیں کہ جس نے لگایا خدا اس کا بھلا کرے۔لیکن ایسے درخت جو علمی درخت ہوتے ہیں جو زبانیں رکھتے اور جن سے ذکر خیر قائم رہتا ہے ان سے دوسرے درختوں کی نسبت بدرجہا زیادہ تعلق ہوتا ہے۔اس وجہ سے مجھے مدرسہ خواتین سے خاص طور پر محبت ہے اور میں اس مدرسہ کے لئے تڑپ رکھتا ہوں کہ جس غرض کے لئے جاری کیا گیا ہے وہ پوری ہو۔یعنی ایسی استانیاں تیار ہوں جو آئندہ نسلوں کی تربیت کا اعلیٰ نمونہ پیش کر سکیں اور ہمارے مدرسہ کی نکلی ہوئی طالبات باقی تمام کو مات کر دیں۔اسی محبت اور تعلق کی وجہ سے میں سمجھتا ہوں مجھے حق ہے کہ مدرسہ کے متعلق ایسی ہدایات یا نصائح جو مفید ہوسکتی ہوں دوں۔