زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 307
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 307 جلد اول کوئی اسے یہ نہیں کہتا کہ حرام خور ہے۔لیکن ایک مولوی جو پانچ وقت نماز پڑھائے، مردے نہلائے اور اور کام جو کمین کرتے ہیں کرے تو بھی یہی کہتے ہیں حرام خور ہے کچھ نہیں کرتا۔اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ کہ پادریوں کے کام کو تمدنی طور پر مفید سمجھا جاتا ہے اس لئے ان کو کوئی نکما نہیں کہتا لیکن مولوی چونکہ تمدنی لحاظ سے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے اس لئے ان کو نکما سمجھا جاتا ہے۔ہماری جماعت کے مبلغین اور طالب علموں کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ وہ لوگوں سے تعلقات پیدا کریں۔ان سے ہمدردی اور محبت پیدا کر کے انہیں اپنی طرف مائل کریں۔اس کے بغیر کوئی مقامی مبلغ کامیاب نہیں ہو سکتا۔سیاسی کام تو وہ کوئی کرتا نہیں اس لئے لوگ اس سے ایسے کام کی توقع رکھتے ہیں جو باتوں تک محدود نہ ہو بلکہ عملی زندگی پر اس کا اثر ہو۔اس لئے ہمارے طالب علموں اور مبلغوں کو کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے اندر انکسار، بجز ، محبت، غرباء کی مدد کرنے کی قابلیت پیدا کریں۔دوسرے لوگوں کو محتاج لوگوں کی امداد کی تحریک کر سکیں۔یہ ایسے کام ہیں جن کے ذریعہ سلسلہ کو حقیقی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اور یہ باتیں بچپن میں ہی پیدا کی جاسکتی ہیں۔عیسائی پادری کی اٹھان ہی ایسی ہوئی ہے کہ وہ کسی کی خدمت کرتے ہوئے شرم محسوس نہ کرے۔اس وقت میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا کہہ چکا ہوں اور دعا پر اس تقریر کو ختم کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ شاہ صاحب کے اخلاص کو قبول فرمائے اور مولوی جلال الدین صاحب کی حفاظت کرے۔ان کے اخلاص میں برکت دے اور وہ طلباء جنہوں نے اس وقت اظہار اخلاص کیا ہے ان کو بھی اس برکت سے حصہ دے۔“ (الفضل 18 جون 1926ء)