زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 304
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 304 جلد اول اندازہ ایک تار سے ہو سکتا ہے۔پچھلے دنوں بغداد میں جب طوفان آیا اور بہت سا نقصان ہوا تو ہم نے ہمدردی کا تار دیا تھا۔اس کا جو جواب آیا اس میں میرے متعلق لکھا تھا کہ ہم ان کی خیریت کی خواہش کرتے ہیں۔یہ کام اس قسم کا ہے کہ سیاسی طور پر اس کے کئی اثرات ہیں۔ایک تو یہ کہ اس سے سمجھا جائے گا کہ احمدی قوم حکومتوں کی رائے بدلنے کی قابلیت رکھتی ہے۔مسلمانوں کے متعلق مخالفین نے کہا کہ ابتدا میں یہ لوگ نادان اور جاہل تھے مگر انہوں نے ایک قوم بنائی اور پھر اس میں سے عقلمند پیدا ہو گئے لیکن بعد کے لوگوں نے ایسے واقعات نکالے جن سے عقلمندی اور دور اندیشی کا ثبوت ملتا ہے۔اور اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ حمد کے بہت بڑے دانا اور عقلمند تھے جنہوں نے ایسے آدمی پیدا کر دئیے جنہوں نے اتنے اتنے عالیشان کام کئے۔تو واقعات سے اندازے لگائے جاتے ہیں کہ پہلے لوگوں نے کس رنگ میں کام کئے۔ایک حکومت کا یہ حکم کہ احمدیوں کو تبلیغ کی اجازت نہیں ہے حتی کہ اگر کوئی ان کے خلاف بھی لکھے تو بھی اس کو جواب دینے کی اجازت نہیں ہے۔جب اس کے متعلق تاریخ نویس دیکھے گا کہ اس بارے میں احمد یہ جماعت نے اپنی کوشش کو ترک نہیں کیا اور اُس وقت تک بس نہیں کی جب تک بدلوا نہیں لیا تو معلوم ہوگا کہ یہ قوم جاہلوں کی قوم نہ تھی بلکہ اپنے مفاد کے لئے تدابیر کرنا جانتی تھی اور حکومتوں کی رائے بدلوا سکتی تھی۔مؤرخ یہ نہیں دیکھا کرتا کہ کوئی قوم کامیاب ہوگئی ہے اس لئے ضرور وہ عظمند قوم ہے بلکہ وہ کہتا ہے کامیابی بعض وقتی حالات اور اثرات سے بھی ہو جایا کرتی ہے۔گو یہ غلط ہے مگر تاریخی پہلو سے یہی فیصلہ کیا جاتا ہے۔اس لئے وہ قوم کے افعال اور اعمال کو دیکھتا ہے کہ ان کے ذریعہ جیتی یا اتفاقی طور پر۔اگر اسے واقعات کی رو سے معلوم ہو جائے کہ وہ قوم سیاست سمجھتی تھی، صحیح تدابیر اختیار کر سکتی تھی تو پھر اسے یہ مانا پڑتا ہے کہ یہ قوم عقل اور تدبیر سے بڑھی ہے اور اس جماعت کے بنانے والوں کو قوم کے خیر خواہ اور ہمدرد کہتا ہے۔تو سیاسی لحاظ سے یہ بہت بڑا کام ہے خصوصاً اس لحاظ سے کہ گورنمنٹ آف انڈیا کی