زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 300

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 300 جلد اول پھر میں سمجھتا ہوں ایسے موقع پر اپنے کام میں توازن قائم رکھنا بھی بہت مشکل کام ہے۔حکومت چاہتی ہے کہ اس سے ہمدردی کی جائے ، اس کی حمایت کی جائے اور ثوار چاہتے ہیں ان کی حمایت کی جائے۔اور جب ایک وقت میں ایک فریق کی حکومت ہو جاتی ہے اور دوسرے وقت میں دوسرے کی تو ایسی حالت میں طرفین کو راضی رکھنا بہت مشکل کام ہے۔بسا اوقات ایک فریق کی طرف انسان اس قدر جھک جاتا ہے کہ دوسرے فریق والے ایک گولی سے اس کا کام تمام کر سکتے ہیں۔ہمارے مبلغین کا یہ بھی ایک کام اور خدمت ہے کہ انہوں نے فریقین میں توازن قائم رکھا اور ایسا رویہ اختیار کیا کہ نہ گورنمنٹ خلاف ہوئی اور نہ باغی مخالف ہوئے۔یہ نفسی جرات اور نفسی بہادری کی علامت ہے اور ساتھ ہی عقلمندی کی بھی۔مگر باوجود اس کے میں یہ کہوں گا کہ ہمارے مبلغین سے ایک غلطی بھی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ ابتدائی دنوں میں انہوں نے ایسے لوگوں کو اپنے گرد اکٹھا ہونے دیا جو علمی مشاغل رکھتے ہیں۔بحث ومباحثہ ان کا مشغلہ بن چکا ہوتا ہے نہ کہ وہ کسی تحقیق حق کے لئے ایسا کرتے ہیں۔یہ لوگ مذہب کے راستہ میں سب سے بڑی روک ہوتے ہیں۔یہ روحانیت کے کیڑے ہوتے ہیں ان کے طرز عمل کو دیکھ کر بظاہر انسان یہ دھوکا کھا جاتا ہے کہ علمی تحقیق کر رہے ہیں مگر دراصل یہ ان کی عادت ہوتی ہے۔اور جس طرح جب لکڑی کو گھن لگ جائے تو اس کے متعلق یہ نہیں کہا جاتا کہ آرہ کشوں کی طرح کاٹ رہا ہے کیونکہ گھن کی غرض تو اس لکڑی کو کھا جانا ہوتی ہے۔اسی طرح یہ لوگ بھی جو کام کر رہے ہوتے ہیں اس سے ان کی غرض حق کا حاصل کرنا نہیں ہوتی بلکہ اپنے شغل کو پورا کرنا ہوتا ہے۔میرے نزدیک ہمارے مبلغوں سے غلطی ہوئی کہ انہوں نے ایسے لوگوں کو اپنے گرد جمع ہونے دیا جن کے مشاغل یہی تھے کہ علمی بحثیں کرتے رہیں۔مذہب بدلنا نہ ان کی غرض تھی اور نہ اس کے لئے تیار ہو سکتے ہیں اور اگر بدلیں تو اس لئے کہ دیکھیں دنیا کیا کہتی ہے۔بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ ایک چیز کو خواہ مخواہ قبول کر لیتی ہیں تا کہ دنیا دشمن ہو جائے۔وہ کسی بات کو سنجیدگی سے قبول نہیں کرتے بلکہ اس لئے قبول