زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 299

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 299 جلد اول کرے۔چنانچہ جنگ کے زمانہ میں جبکہ ہزار ہا جہاز چلتے تھے اور ایک فیصدی سے زیادہ نہ ڈوبتے تھے اس وقت کسی مبلغ کو یورپ بھیجنے کے لئے تیار کیا جاتا تو اس کے رشتہ دار کہہ اٹھتے کہ ایسے خطرہ کے موقع پر کیوں بھیجا جاتا ہے حالانکہ خشکی کی لڑائی کے مقابلہ میں سمندر میں بہت کم خطرہ تھا اور کجا یہ کہ عین جنگ میں کوئی شخص رہے۔ان مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارے شام کے مبلغین نے جو کام کیا وہ اس حد تک تعریف کے قابل ہے کہ انہوں نے تبلیغ کو جاری رکھا اور وقت کو خطرات کی وجہ سے ضائع نہیں کیا۔پہلی خوبی تو ان کی یہ ہے کہ انہوں نے حالات کے اس قدر خطر ناک ہو جانے پر یہ نہ کہا کہ ہمیں تبلیغ کے لئے بھیجا گیا تھا نہ کہ میدان جنگ میں رہنے کے لئے اس لئے ہمیں واپس بلا لیا جائے۔یہی ان کی خوبی دین اور سلسلہ سے محبت کی دلیل ہے۔اور کئی ایک ایسے ہوتے جو کہ اٹھتے کہ ہمیں جان کا خطرہ ہے ہمیں واپس بلا لو۔مگر اس سے بھی بڑھ کر ان کی خوبی یہ تھی کہ صبح کسی کے گھر ڈاکہ پڑ تا باغی مال و اسباب لوٹ کر اور اکثر اوقات قتل کر کے چلے جاتے اور شام کو ہمارے مبلغ اس گھر کے لوگوں کو تبلیغ کرنے کے لئے ان کے ہاں پہنچ جاتے۔مجھے ان کی اس جرات کے متعلق کوئی لفظ تو نہیں ملتا مگر عام لوگ اسے ڈھٹائی بلکہ بے حیائی کہیں گے کہ عجیب لوگ ہیں صبح کو اس گھر پر گولے برس رہے تھے، لوٹ مار ہو رہی تھی اور شام کو یہ آ کر کہتے ہیں ہماری تبلیغ سن لو۔ایسے لوگوں کو تبلیغ کرنے کا اندازہ اس مثال سے ہو سکتا ہے کہ کسی کے ہاں کوئی مر گیا ہو، گھر والے اس کی کو دفن کرنے کے لئے لے جانے لگے ہوں، وہ اس کا جنازہ اٹھانے کو ہی ہوں کہ ایک مبلغ وہاں پہنچ جائے اور ان کا ہاتھ پکڑ لے کہ میری باتیں سن لو۔حضرت مسیح موعود آگئے ہیں ان کو قبول کرو۔ایسی حالت میں ان لوگوں کے احساسات کا اندازہ کر لوجن سے یہ کہا جائے گا۔تو ایسے موقع پر تبلیغ کرنا اور بھی جرات اور دلیری کا کام ہے۔اس کے لئے ہمارے دونوں مبلغ قابل تعریف ہیں اور انہوں نے وہ کام کیا ہے جو ایسے حالات میں اور بہت سے لوگ نہ کر سکتے۔