زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 24

زریں ہدایات (برائے <mark>مبلغ</mark>ین ) 24 جلد اول لوگ شامل ہوئے۔فلاں فلاں و<mark>جو</mark>ہات پر مخالفت کی گئی۔فلاں فلاں بات لوگوں نے پسند کی۔یہ رجسٹر آئندہ تمہارے علم کو وسیع کرنے والا ہو گا۔تم سوچو گے کیوں مخالفت تم ہوئی۔اہم مسائل کا تمہیں پتہ لگ جائے گا <mark>ان</mark> پر آئندہ غور کرتے رہو گے۔اگر تم وہاں سے بدل جاؤ گے تو پھر تمہارے بعد آنے والے کے کام آئے گا۔آجکل اس بات کو نہ سوچنے کی وجہ سے مسلم<mark>ان</mark> گرے ہوئے ہیں۔ایک استاد تمام عمر فلسفہ پڑھاتا ہے وہ کبھی <mark>ان</mark> باتوں کو نوٹ <mark>نہی</mark>ں کرتا کہ فلاں بات پر فلاں لڑکے نے سوال کیا اس کا اس طرح <mark>جو</mark>اب ہوا۔فلاں بات کی اس طرح تجدید یا تردید ہونی چاہئے۔وہ جتنا تجربہ حاصل کر چکا ہوتا ہے جب مرجاتا ہے تو پھر دوسرے کو <mark>جو</mark> اس کی جگہ آتا ہے از سرنو وہ تجربہ کرنا پڑتا ہے۔یورپ کے علوم کی ترقی کا باعث یہی بات ہوئی کہ ایک کچھ نئی معلومات حاصل کرتا ہے اور <mark>ان</mark>ہیں نوٹ کرتا ہے۔اس کے بعد آنے والا پھر وہی معلومات حاصل <mark>نہی</mark>ں کرتا وہ <mark>ان</mark> نوٹوں سے آگے فائدہ اٹھاتا ہے۔تم بھی اس طرح <mark>کرو</mark> کہ ہر سال کے بعد نتیجہ نکالو۔کون سی نئی باتیں <mark>پیدا</mark> ہوئیں کون سی باتیں مفید ثابت ہوئی ہیں۔جب یہ رپورٹ دوسرے <mark>مبلغ</mark> کے ہاتھوں میں جائے گی تو وہ <mark>اپنی</mark> بناء زیادہ مضبوط کرے گا۔کبھی <mark>اپنی</mark> جگہ <mark>نہی</mark>ں چھوڑنی چاہئے۔یہ خیال کر کے کہ اگر یہ یوں <mark>نہی</mark>ں م<mark>ان</mark>تا تو و استقلال اس طرح م<mark>ان</mark> لے گا۔اس میں وہ تو نہ ہارا تم ہار گئےکہ تم نے <mark>اپنی</mark> بات کو ناکافی سمجھ کر چھوڑ دیا۔تم نے اپنا <mark>دین</mark> چھوڑ کر دوسرے کو منوا بھی لیا تو کیا فائدہ۔بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ غیر احمدی وفات مسیح پر چڑتے ہیں۔چلو وفات مسیح چھوڑ کر اور باتیں منواتے ہیں یہ غلط ہے۔وفات مسیح م<mark>ان</mark> جائیں تو پھر آگے پیش <mark>کرو</mark>۔ترتیب سے پیش <mark>کرو</mark> ملمع سازی سے پیش نہ <mark>کرو</mark>۔ملمع سازی سے پیش کرنے کا یہ نتیجہ ہو گا کہ جب اس پر بات کھلے گی تو یا وہ تم سے بدظن ہوں گے اور یا پھر تمہارے مذہب سے۔جن جن باتوں پر خدا نے تمہیں قائم کیا ہے <mark>ان</mark> کو پیش <mark>کرو</mark>۔اگر لوگ نہ م<mark>ان</mark>یں تو تمہارا کام پیش کرنا ہے منوا نا <mark>نہی</mark>ں وہ اللہ کا کام ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَذَكَرُ