زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 291
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 291 جلد اول نے فرمایا ہے فطرت کا مذہب لعنت ہے۔حالانکہ دوسری طرف آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ فطرت مذہب کی طرف انسان کو لے جاتی ہے۔فطرت کا مذہب کیوں لعنت ہے؟ اس لئے کہ وہ چونکہ بہت کچھ مذہب کے مشابہ ہوتا ہے اس لئے اکثر اوقات تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔اصل مذہب کی جو غرض ہے اور جو مذہب کے لفظ سے ہی ظاہر ہے کہ خدا تک پہنچنے کا راستہ۔اس کے لئے آسمان سے ہاتھ آتا ہے جو کھینچ کر اس راستہ تک انسان کو لے جاتا ہے۔ورنہ خدا تعالیٰ کامل طور پر ہادی نہیں ہو سکتا تھا اگر فطرت کامل طور پر ہادی ہوتی۔اس میں شبہ نہیں کہ فطرت خدا تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی ہے اور ہدایت کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ صرف فطرت ہدایت پانے کے لئے کافی نہیں ہے۔اگر کافی ہوتی تو خدا تعالیٰ کا صرف خالق ہونا کافی تھا اور وہ ہادی نہ ہوتا۔کیونکہ فطرت کا مذہب خالقیت کے ماتحت آتا ہے اور باہر سے مذہب آنے والا ہادی ہونے کے ماتحت ہے۔پس ان لوگوں کے دلوں میں تڑپ ضرور ہے اور میرا خیال ہے کہ ایشیائی لوگوں سے بھی زیادہ بعض کے دلوں میں حقیقی مذہب کے لئے تپش ہے اور بوجہ اس کے کہ ان کے دلوں کی زمین صاف ہے ممکن ہے وہ زیادہ جلدی الہام اور رؤیا کے قابل ہو سکے۔یہ اثر مجھ پر یورپ کے سفر میں پڑا ہے۔میں اس بات کا پہلے بھی قائل تھا مگر اب زیادہ وثوق ہو گیا ہے کیونکہ ان کے دل محبت الہی کی باتیں سن کر پگھل جاتے تھے۔اور وہ انسان جو محبت کی لہروں کا وزن کرنے کی اہلیت رکھتا ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ ایشیائیوں کی نسبت ان کے دلوں میں بہت زیادہ اور جلدی محبت کی لہریں پیدا ہو جاتی ہیں۔اس وجہ سے میں سمجھتا ہوں اگر ان کی صحیح تربیت کی جائے تو آج نہیں تو کل ضرور اسلام کے سچے عاشق بن جائیں گے۔جب ان کی روحانیت پرورش پائے گی تو سچاند ہب قبول کر لیں گے۔اُس وقت ان کی یہ حالت ہو جائے گی کہ کہیں گے ہم بے کس و بے بس ہیں۔خدا ہی ہمارا ہاتھ پکڑ کر بتائے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔اُس وقت وہ ہر بات ماننے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔خواہ وہ