زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 292
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 292 جلد اول بات کھانے پینے کے متعلق ہو یا تمدن کے متعلق، عبادت کے متعلق ہو یا رسوم کے متعلق۔کیونکہ ان کی حالت اسی طرح ہوگی جس طرح مریض کی ڈاکٹر کے مقابلہ میں ہوتی ہے۔مریض ڈاکٹر کی بہت سی باتوں کی حکمت نہیں سمجھ سکتا مگر جو بات ڈاکٹر کہتا ہے اسے مانتا ہے۔اسی طرح اہل یورپ مبلغین اسلام کے مقابلہ میں کریں گے۔اور یہی چیز مذہب ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے سامنے اپنے آپ کو اس طرح ڈال دے کہ جو بھی تعلیم اس کی طرف سے ہوگی اس پر عمل کروں گا خواہ بظاہر اس میں نقصان ہی نظر آئے خواہ رسوم اور عادات کے خلاف ہی ہو۔یہی مذہب اور فطرت میں فرق ہے۔وہاں ہر قدم عقل کے ماتحت رکھا جاتا ہے لیکن مذہب میں اطاعت کے ماتحت کام ہوتا ہے۔وہاں انانیت سے قدم اٹھایا جاتا ہے اور یہاں فنائیت سے۔پہلے انسان میں انانیت آتی ہے جبکہ وہ عقل سے کام لیتا ہے اور مذہب کا سچا ہونا معلوم کرتا ہے اور جب وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اسے معلوم ہو جاتا ہے ایک ایسی زبردست طاقت ہے جو مجھے چلا سکتی ہے تو وہاں اس کی انانیت ختم ہو جاتی ہے۔اس وقت وہ یہ کہہ دیتا ہے جہاں چاہو لے چلو اب مجھے کوئی عذر نہیں ہے کیونکہ اب میری میں نہیں رہی تو ہی تو ہو گیا ہے۔یہاں سے مذہب شروع ہوتا ہے۔فطرت راہنمائی کر کے مذہب تک پہنچا دیتی ہے۔آگے مذہب خدا تعالیٰ تک لے جاتا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کا احساس تو فطرت پیدا کرتی ہے آگے جسے وصال کہتے ہیں وہ مذہب سے حاصل ہوتا ہے۔پس میں یہ مانتا ہوں کہ فطرتی احساس تو ایشیا والوں سے بھی یورپ والوں میں زیادہ ہے مگر مجھے ماسٹر صاحب سے اس بات میں اختلاف ہے کہ اسی فطرتی احساس کا نام مذہب ہے۔ہاں یہ ضرورت ہے کہ ہم اس احساس کا جواب ان کے سامنے رکھیں۔جس طرح ایک پیاسے کو جب پانی ملے تو اس کی پیاس بجھ جاتی ہے اسی طرح ان لوگوں کو جب حقیقی مذہب معلوم ہو گا تو ان کی پیاس بھی بجھ جائے گی اور وہ حقیقتاً مسلمان ہو جائیں گے۔بعض اوقات مذہب کے معنی ظاہری رسوم کے لئے جاتے ہیں اس لحاظ سے جس طرح ہم غیر احمدیوں کو مسلمان کہتے ہیں اسی طرح ان لوگوں کو بھی مذہبی