زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 289

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 289 جلد اول کی کتاب اس علم کی موجود ہے۔وہ علم النفس ہے۔اس کی وجہ سے اور دل کے باریک احساسات دیکھنے سے وہ دل کے اندر تاریک در تاریک گوشوں میں اس قسم کی امنگیں محسوس کرتے ہیں کہ ابھی ہم نے سب کچھ حاصل نہیں کر لیا۔ان لوگوں کو اندرونی کی احساسات اور سائیکالوجی ( علم النفس ) نے اس طرح متوجہ کر دیا ہے کہ دنیا کمانے کے علاوہ کسی اور بات کی طرف توجہ کرنی چاہئے مگر اس کا نام مذہب نہیں ہے بلکہ یہ ایک قسم کی پکار ہے۔جس طرح ایک پیاسے کی پانی کے لئے پکار ، پانی نہیں کہلا سکتی اسی طرح یہ پکار بھی مذہب نہیں کہلا سکتی۔ایک ایسے بچے کو جو نہیں جانتا کہ پانی کیا ہے اور غذا کیا ہے جس نے ماں کے پیٹ سے پیدا ہو کر ایک گھونٹ بھی پانی یا دودھ کا نہیں پیا تم اسے تڑپتا دیکھ کر اگر اس کے منہ میں ایک سیال چیز نہ ڈالو تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسے پانی کی پیاس ہے بلکہ وہ قانون قدرت کی پکار ہے جو دل سے نکلتی ہے اور جو یہ بات محسوس کراتی ہے کہ کسی اور چیز کی ضرورت ہے جو حاصل کرنی چاہئے۔اسی طرح اہل یورپ میں جو احساس ہے وہ مذہب کی پکار اور مذہب کی بھوک اور مذہب کی پیاس تو کہلا سکتی ہے لیکن مذہب نہیں ہے۔مذہب خدا تعالی کی آواز کو لبیک کہنے کا نام ہے مگر مغربی لوگوں کے دل سے آواز پیدا ہوئی ہے جو فطرت کی آواز ہے جو انسانیت کہلا سکتی ہے، جو اخلاق سمجھی جاسکتی ہے لیکن اسے مذہب نہیں کہہ سکتے۔مذہب کی آواز وہ ہوتی ہے جو باہر سے آتی ہے اور کانوں کے ذریعہ اندر جاتی ہے اور انس کے مادہ سے مل کر جفت ہوتی ہے۔پھر وہ مرد و عورت کی طرح مل کر بچہ پیدا کرتی ہے جسے روحانیت کہتے ہیں۔پس اس میں شبہ نہیں کہ یورپ کے لوگوں میں وہ فطرت نمایاں ہے اور بعض لحاظ سے زیادہ نمایاں ہے کیونکہ وہاں کے لوگوں میں تعلیم زیادہ ہے۔ان کے دل کی تختیاں صاف ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے صاف سختی پر اچھا لکھا جاتا ہے۔جب لوگ کہتے کہ عام لوگ لامذہب ہو رہے ہیں اور اپنے اپنے مذہبی عقائد کو ترک کر رہے ہیں تو فرماتے ایسے لوگوں کے دل کی تختیاں صاف ہو رہی ہیں ان پر صحیح عقائد