زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 285
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 285 جلد اول ادا نہیں کیا۔گواب بھی دوسری ایسی تقریبوں کی نسبت ان کی تلاوت اچھی تھی مگر پہلے کی طرح نہ تھی۔البتہ نظم بہت اچھی پڑھی گئی۔اس میں ایک خاص خوبی تھی اور وہ یہ کہ نظم کا مضمون جس طرح خیالات کو اوپر لے جانا چاہتا تھا اسی طرح میاں محمد جان ( نظم پڑھنے والالڑ کا ) اپنی آواز کو بلند کرتے تھے اور اس خوبی سے بلند کرتے تھے کہ جس کی نقل نہیں کی جا سکتی۔مصرعہ کا آخری حصہ اس طرح اوپر اٹھتا تھا کہ روح کو بھی اوپر اٹھا کر لے جاتا تھا۔ہر بار میں ہر شعر پر خیال کرتا کہ شاید اب کے اس رنگ میں مصرعہ ادا نہ ہو مگر شروع سے اخیر تک ایک ہی رنگ میں اٹھتا رہا۔اس میں یہ خوبی تھی کہ شعر اس طرح پڑھے کہ مضمون کے ساتھ لہجہ میں بھی بلندی ہوتی تھی۔میں سمجھتا ہوں ہمارے دونوں سکولوں سے یہ بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ اس قسم کے جلسوں میں سارا مجمع مل کر نظمیں پڑھے۔اس سے جوش، بلند ہمتی اور امنگ پیدا ہوتی ہے۔میں نے ولایت سے آنے پر دونوں سکولوں کو نصیحت کی تھی کہ آپ لوگ یہ انتظام کر سکتے ہیں کہ جلسہ سے پہلے جو نظم پڑھی جائے اسے سارا مجمع دہرائے۔یہ عام رواج بھی ہے اور جائز بھی ہے کیونکہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ کے سامنے سارے صحابہ مل کر شعر دہراتے تھے۔1 اس طرح ایک تو ان کی آواز بھی بلند ہو جائے گی جن کی نیچی ہے دوسرے اس سے جذبات میں ایسا ہیجان پیدا ہوتا ہے کہ ستی اور غفلت جو بعض پر چھائی ہوئی ہو دور ہو جاتی ہے۔اور اس طرح اٹھنے والی لہر جو دوسرے ساتھیوں کے منہ سے نکلتی ہے سب پر اثر کرتی ہے۔اس وقت تو دو لڑکوں نے مل کر نظم پڑھی ہے لیکن اگر ساری مجلس یا سکول کی جماعت کے سارے لڑکے مع استاد کے مل کر نظم پڑھیں تو میں سمجھتا ہوں اس طرح حوصلہ کی بلندی پیدا ہو کر آواز کو بھی بلند بنا سکتی ہے۔اس کے بعد جو ایڈریس پڑھے گئے ہیں ان میں سے ایک بات کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ امریکن مشن کی کامیابی میں یا جو کام وہاں ہوا ہے اس میں امریکہ کے مبلغین کی تعریف کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کسی حصہ کام کے متعلق میں بھی تعریف