زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 282

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 282 جلد اول کے ماتحت ظہور میں آئے اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی مد نظر ہو کہ بنی نوع کی بھلائی ہو اور دوسرے کے مقابلہ میں اپنی قربانی کی جائے۔بشرطیکہ انسان کی روحانیت کی قربانی نہ ہو۔اس تعریف کے مقابلہ میں یورپ نے اخلاق کی جو تعریف کی ہے وہ ادنی رہ جاتی ہے۔پہلے وہ کہتے تھے جس چیز سے زیادہ فائدہ پہنچتا ہو وہ اچھی ہوتی ہے۔اب یہ کہتے ہیں کہ جس چیز سے زیادہ فائدہ ہو اور ساتھ ہی قومی فائدہ بھی ہو وہ اچھی ہے۔مگر پھر بھی اسلام نے جو تعریف کی ہے اس سے یہ ادنی ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس نقطہ نگاہ کو بدل دیا ہے کہ صرف اسلام میں خوبیاں ہیں اور یہ اصل قرار دیا ہے کہ دوسروں کی خوبیاں تسلیم کرنی چاہئیں اور پھر قرآن کی خوبیاں اعلیٰ ثابت کرنی چاہئیں۔اصول تفسیر کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ ایک نکتہ بیان فرمایا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم قرآن کریم کی جو تفسیر کرتے ہیں وہ اعلیٰ ہوتی ہے۔ایک غیر احمدی اگر قرآن کریم میں کوئی خوبی دیکھتا ہے تو اس بات پر اچھل پڑتا ہے کہ یہ کسی اور مذہب میں نہیں۔مگر چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا ہے کہ دوسرے مذاہب میں بھی خوبیاں ہیں اس لئے ہم ان کی خوبیوں سے بڑھ کر اسلام کی خوبیاں دیکھنے کے لئے گہرا مطالعہ کرتے اور اعلیٰ خوبیاں معلوم کر لیتے ہیں اس وجہ سے ہم قرآن کریم کی جو تفسیر کرتے ہیں وہ اعلیٰ ہوتی ہے۔غرض قرآن کریم کے مطالعہ کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسے گر اور سکتے بتائے ہیں کہ ان کی اتباع کرنے سے ایسے اعلیٰ نتائج پیدا ہو سکتے ہیں جو مخالف کسی صورت میں پیدا کر ہی نہیں سکتے۔کیونکہ ان کا نقطہ نگاہ اور ہے اور ہمارا اور ہے۔پس دوسرے مذاہب کا مطالعہ کرنا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ ان کی زیادہ سے زیادہ خوبیاں معلوم ہوں تا کہ ان سے بڑھ کر قرآن کریم کی خوبیاں بتائی جاسکیں۔اس سے میں نے اتنا فائدہ اٹھایا ہے کہ جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ارادہ تو یہ تھا آجکل پڑھانا بھی چھوڑ دوں کیونکہ گلہ پڑا ہوا ہے اور بولنے سے تکلیف