زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 279
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 279 جلد اول کی نسبت میں ہوشیار کرنا چاہتا ہوں۔کمپیریٹو ریلیجن خود ایک مذہب ہے۔بے شک اس مذہب کے پیروؤں نے کہا ہے کہ سب مذاہب میں سچائی ہے مگر وہ ایک خاص مقصد کے لئے یہ بات کہتے ہیں اور ان لوگوں کی کتابوں کے پڑھنے سے بھی کوئی آزاد رائے قائم نہیں کر سکتا۔ان کی تھیوری یہ ہے کہ انسانی دماغ نے حالات اور تمدن کے ماتحت کچھ اصول تجویز کئے ہیں۔اس وجہ سے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ابتدائی صداقتوں اور سچائیوں کو مخفی کریں۔وہ کہتے ہیں ابتدا میں سچائیاں نہ تھیں۔مثلاً توحید کے متعلق زور دیتے ہیں کہ یہ ابتدا میں نہ تھی۔کیونکہ اگر یہ مانا جائے کہ توحید پہلے تھی اور شرک بعد میں پیدا ہوا تو ان کی تھیوری کی بنیاد بالکل اڑ جاتی ہے کہ دماغ نے حالات کے ماتحت ترقی کر کے اصول تجویز کئے ہیں۔ان کی کتب سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے کیونکہ انہوں نے تلاش اور جستجو کر کے ہر ملک کے مذہب کے حالات لکھے ہیں اور ہر ایک آدمی کو وہ سامان میر نہیں آسکتے۔اس طرح ان کی کتابیں مفید بھی ہو سکتی ہیں۔ان کی کتب کو بھی پڑھا جائے مگر اسے بھی علیحدہ مذہب قرار دے کر۔ان کے بھی بہت سے اصول ایسے ہیں جو اسی طرح اسلام کے خلاف ہیں جس طرح عیسائیت اور آریہ مذاہب کے ہیں۔پس مذاہب کی تحقیقات نہایت ضروری ہے اور میں نے کبھی کسی غیر مذہب کے متعلق کوئی بات نہیں مانی جب تک خود اس مذہب کی کتاب میں دیکھ نہ لوں۔کیونکہ ہر مذہب کا حق ہے کہ اس کی اصل بات دیکھی جائے اور پھر اگر وہ قابل اعتراض ہو تو اعتراض کیا جائے۔لیکن جس طرح کسی کو یہ حق نہیں کہ قرآن کریم کے متعلق کسی آریہ سے کوئی بات سن کریا کسی مولوی سے کوئی بات معلوم کر کے اس کے متعلق فیصلہ کر لے اسی طرح یہ بھی نہیں ہوتا چاہئے کہ جیکب سے سن کر کسی امر کا فیصلہ کیا جائے کیونکہ وہ بھی اپنا خیال رکھتا ہے۔پس ہر ایک مذہب کا مطالعہ ضروری ہے اور غیر متعصبانہ طور پر مطالعہ ضروری ہے۔اس سے کئی باتوں کے متعلق صحیح علم حاصل ہو جاتا ہے۔میں نے اسی جلسہ کے موقع پر جو جمعہ آیا تھا اس کے خطبہ میں ایک ایسی بات عیسائیت