زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 278

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 278 جلد اول میں رواداری ہے مگر حقیقی رواداری نہیں ہے۔حقیقی رواداری وہ ہوتی ہے جو انسان اس وقت برتے کہ وہ کوئی بات حق ثابت ہو جانے پر قبول کر لینے کے لئے تیار ہو۔مگر یورپین رواداری اس طرح دکھاتے ہیں کہ اپنی جگہ کو نہیں چھوڑ نا خواہ کوئی کچھ ثابت کرے۔ایسے لوگ اب ہندوستان میں بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ان سے کتنی باتیں کریں وہ ہنستے رہیں گے خوشی کا اظہار کریں گے تعریف بھی کریں گے مگر مانیں گے کچھ نہیں۔یہ رواداری ظاہری حالت میں اچھی نظر آتی ہے مگر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ کچھ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔جب انہیں کوئی بات سمجھائی جائے تو کہتے ہیں اچھی بات ہے بہت عمدہ ہے مگر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تمہارے لئے اچھی اور عمدہ ہے ہمارے لئے نہیں۔اس وجہ سے یہ رواداری بھی ایسی ہی ہے جیسے ہندوستان کے لوگوں کی سیج بھی کیونکہ اس کا نتیجہ بھی یہی ہوتا ہے کہ میں تمہاری بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں خواہ وہ کیسی ہی معقول ہو۔اس کے مقابلہ میں اسلام کی رواداری یہ ہے کہ مذہبی طور پر خواہ اختلاف ہو دنیاوی طور پر ہر طرح ساتھ دینے اور امداد کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ہمیں اس رواداری پر عمل کرنا چاہئے نہ کہ یورپ والی رواداری پر۔کیونکہ وہ حق کے قبول کرنے سے محروم کر دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یورپ والے یہ تو کہتے ہیں تمہاری باتیں اچھی ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں ہمیں ضرورت نہیں کہ مانیں۔ماسٹر صاحب کی تقریر سے شاید کسی کو ایک اور دھوکا بھی لگے اور وہ دیگر مذاہب کا مطالعہ کرنے کے متعلق ہے۔یہ ایسی بات ہے کہ میں خود اس کے متعلق زور دیا کرتا ہوں کیونکہ خود مطالعہ کرنے سے بہت سی باتیں ایسی نظر آتی ہیں جنہیں عام طور پر برا سمجھا جاتا ہے۔مگر اصل میں وہ ٹھیک ہوتی ہیں۔میں نے دیگر مذاہب کی کتب کے مطالعہ سے بہت فائدہ اٹھایا ہے اور اس سے مجھ پر یہ صداقت اور زیادہ وضاحت کے ساتھ ظاہر ہو گئی ہے کہ تمام قوموں میں نبی آتے رہے ہیں۔تو مطالعہ کرنا بہت مفید اور ضروری ہے۔مگر ماسٹر صاحب نے کمپیریٹو ریلیجن(Comparative Religion) کے متعلق جو کچھ بیان کیا ہے اس