زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 273

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 273 جلد اول نے یہ دیکھ کر کہ شعر تو رلانے کے لئے پڑھے جاتے ہیں لیکن لوگ ہنستے ہیں مرثیہ کا لفظ نکالا جس میں ہنسی مذاق کا حصہ رکھ دیا۔تو ہر چیز کے مناسب حال بات ہونی چاہئے۔بے شک قرآن کی تلاوت برکت کا موجب ہوتی ہے اور نظم خوانی خوش طبعی کا باعث مگر قرآن کریم کی آیات بھی ہر موقع کے مطابق اور نظمیں بھی ہر تقریب کے مناسب مل سکتی ہیں۔قرآن کریم میں تبلیغ کے متعلق آیتیں موجود ہیں مبلغین کے کاموں پر اظہار خوشی اور ان سے انعام کے وعدے پائے جاتے ہیں۔ایسے موقع پر انہی آیات کا پڑھنا موزوں ہو سکتا ہے ورنہ اگر ایک مبلغ کی آمد کی تقریب پر ان آیات کی تلاوت جن میں قیامت کا ذکر ہو کیا معنی رکھتی ہے۔پس جیسا موقع ہو اس کے لحاظ سے تلاوت کے لئے آیات کا انتخاب ہونا چاہئے۔جس سے معلوم ہو کہ پڑھنے والا دماغ سے کام لے رہا ہے۔یہ نہیں ہونا چاہئے کہ قرآن کریم کا جو حصہ یاد ہو وہی ہر موقع پر پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔پس یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جس قسم کا جلسہ ہو اس کے مناسب حال آیات کی تلاوت کرنی چاہئے۔یہی بات میں نظموں کے متعلق بھی کہنا چاہتا ہوں۔مجھے یہ بھی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ باوجود متواتر توجہ دلانے کے ابھی تک مدرسہ احمدیہ میں یہ احساس نہیں پیدا ہوا کہ ایسے طور پر بچوں کی تربیت کی جائے کہ وہ مجمع کے مطابق آواز کو بلند یا نیچا کر سکیں۔آج جن صاحب نے نظم پڑھی ہے ان کی آواز بہت نیچی تھی۔اپنے طور پر تو ہر ایک کو حق ہے کہ جس طرح چاہے اشعار پڑھے اور میں نے دیکھا ہے جن کی آواز بالکل نہیں نکلتی وہ بھی پڑھتے ہیں لیکن مجلس میں اس طرح پڑھنا چاہئے کہ ساری مجلس سن سکے۔اشعار کی غرض یہ ہوتی ہے کہ قلوب کو کھینچیں۔اور دو ہی چیزیں یہ نتیجہ پیدا کر سکتی ہیں۔ایک آواز کی بلندی اور دوسری آواز کی لہر۔اگر آواز کی لہریں قلوب کی لہروں کے مطابق ہو جائیں تو جسمانی تغیر بھی پیدا کر دیتی ہیں اور بے جان چیزوں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔انگلستان کا ہی ایک واقعہ ہے ایک پل پر سے فوج گزر رہی تھی کہ وہ ٹوٹ گیا۔