زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 272

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 272 جلد اول حضرت مولوی محمد الدین صاحب بی اے مبلغ امریکہ کے اعزاز میں دعوت چائے حضرت مولوی محمد الدین صاحب بی۔اے مبلغ امریکہ کو ان کے امریکہ سے واپس تشریف لانے پر طلباء مدرسہ احمدیہ نے دعوت چائے دی جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی بھی شامل ہوئے۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا:۔میں سمجھتا ہوں سب کے کام کا وقت آچکا ہے کیونکہ دس بجنے لگے ہیں۔خواتین کے مدرسہ میں میرا جو وقت ہے وہ تو ختم بھی ہو چکا ہے جو 9 بجے سے شروع ہوتا ہے۔لیکن چونکہ یہ ٹی پارٹی ایسے وقت میں رکھی گئی ہے جسے مدنظر رکھ کر اسا تذہ کو معلوم ہی ہوگا کہ مدرسہ کے شروع ہونے سے قبل ختم نہیں ہوگی اس لئے یہ فرض کرتے ہوئے کہ یہ بات ان کے ذہن میں تھی میں سمجھتا ہوں اسے جلد ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔جو کچھ آج میں نے سنا ہے اس کے متعلق اول تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر موقع کے مناسب حال بات ہو تو اچھی ہوتی ہے۔شیعوں میں ماتم کے ایام میں مرثیے پڑھتے ہیں ان مرثیوں میں شاعر کا دل چاہتا ہے کہ طعن کروں، عیب جوئی کروں۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب مرثیہ پڑھنے والا عیب چینی کرتا اور تمسخر اڑاتا ہے تو سننے والوں کو ہنسی آجاتی ہے۔ایک جگہ مرثیہ گوئی کے لئے مجلس بیٹھی تھی۔ایک شخص نے شعر پڑھا جس کا مطلب یہ تھا بھونکتا ہوا آیا اور دیکھتا ہوا بھا گا۔اس پر سب لوگ ہنس پڑے۔آخر شیعوں