زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 266
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 266 جلد اول کہ بعض مبلغ بھی سمجھتے ہیں کہ کس طرح کامیابی ہوگی۔حالانکہ میں ان سے بہت زیادہ اس کام کی حقیقت سے واقف ہوں مگر مجھے کبھی نا امیدی نہیں ہوئی۔اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا تبلیغی کام عیسائیوں سے ہزار درجہ بڑھ کر عمدگی سے ہو رہا ہے اور ان کی نسبت ہزار درجہ زیادہ ہمیں کامیابی کا موقع ہے۔میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چاہتا ہوں کہ اپنی جماعت کو بتاؤں کہ وہ بلا د مغربی میں تبلیغ کے نتائج پر نظر ڈالنے سے پہلے دیکھے کہ ہمارا کام کہاں اور کن حالات میں ہو رہا ہے۔اب تو یہ حالت ہے کہ مبلغ بھی گھبرا جاتے ہیں کہ کس طرح کامیابی ہوگی کیونکہ ایک شخص آتا ہے، مسلمان ہو جاتا ہے، اخلاص ظاہر کرتا ہے مگر پھر باقاعدہ نمازیں نہیں پڑھتا۔ہم جب ولایت گئے تو ایک نو مسلم آیا جس کے متعلق بتایا گیا کہ بہت مخلص ہے۔وہ تین نمازیں پڑھتا تھا۔ہم اسے کافی نہیں سمجھتے مگر میرے نزدیک یہ اتنا بڑ الغیر ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اس قوم کی حالت اور اس ملک کی حالت کو مد نظر رکھ کر اگر دیکھا جائے تو یہ بہت بڑا تغیر ہے۔پس وہاں کی کامیابی کو اس طرح کی کامیابی نہ سمجھا جائے جو ہمیں ہندوستان میں حاصل ہو رہی ہے کہ دین پر جانیں قربان کرنے والے اور مال خرچ کرنے والے پیدا ہو رہے ہیں بلکہ وہاں کے لوگ اگر اپنے حالات میں اسلام کے مطابق کچھ بھی تغیر کرتے ہیں تو یہی کامیابی ہے۔بعض لوگ جن کی نظر سطحی نتائج پر ہوتی ہے کہتے ہیں وہاں تو روپیہ ضائع ہو رہا ہے۔مگر سچی بات یہ ہے کہ نہ تو روپیہ ضائع ہو رہا ہے اور نہ ایسی کامیابی حاصل ہو رہی ہے جیسی ہندوستان میں۔ہاں ہندوستان میں عیسائیوں اور آریوں کو جس قسم کی کامیابی حاصل ہو رہی ہے اس سے بہت بڑھ کر ہمیں بلادِ مغرب میں کامیابی ہو رہی ہے۔اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ مغربی قوموں کی اصلاح حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں آہستہ آہستہ ہوگی۔اس موقع پر میں نے مناسب سمجھا کہ یورپ میں تبلیغ احمدیت کے متعلق اپنی جماعت پر حقیقت واضح کر دوں۔باقی اس خوشی میں جو ماسٹر صاحب کی واپسی پر ہوئی ہے میں