زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 20

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 20 جلد اول کچھ تم سنا رہے ہو یہ تمہیں ورثے کے طور پر نہیں ملا بلکہ تم نے خود اس کو پیدا کیا ہے۔تم نے خود اس پر غور کیا ہے۔(2) ٹھٹھے باز نہیں ہونا چاہئے۔لوگوں کے دلوں سے ادب اور رعب جاتا رہتا ہے۔ہاں مذاق نبی کریم ﷺ بھی کر لیا کرتے تھے اس میں حرج نہیں۔احتیاط ہونی چاہئے۔سنجیدہ معلوم ہو۔(3) اور ہمدردی ہونی چاہئے۔نرم الفاظ ہوں۔سنجیدگی سے ہوں۔سمجھنے والا سمجھے میری زندگی اور موت کا سوال ہے۔تمہاری ہمدردی وسیع ہونی چاہئے۔احمدیوں سے بھی ہو غیر احمدیوں سے بھی ہو۔ہمدردی دونوں فریق کے ساتھ نہ ہونے کی وجہ سے ہی جھگڑے ہوا کرتے ہیں۔ایک فریق کہتا ہے ہم اپنے مولوی کو بلاتے ہیں دوسرے کہتے ہیں ہم اپنے مولوی کو بلاتے ہیں۔لیکن اگر تمہاری ہمدردی دونوں فریق کے ساتھ ہو تو دونوں فریق کے تم ہی مولوی ہو گے۔اور پھر انہیں کسی اور مولوی کے بلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ وہ تمہیں اپنا مولوی سمجھیں گے۔پھر تبلیغ صرف مسلمانوں میں ہی نہیں ہونی چاہئے۔(4) آج تک ہمارے مبلغوں کا زور غیر احمدیوں پر ہی رہا ہے۔کثرت سے ہندو آباد ہیں ان میں بھی تبلیغ ہونی چاہئے۔بہت سی سعید روحیں ان میں بھی ہوتی ہیں۔تمہاری ہمدردی ان کے ساتھ بھی ویسی ہی ہونی چاہئے جیسے مسلمانوں اور احمدیوں کے ساتھ تاکہ تم ان کے بھی پنڈت ہو جاؤ۔اسلام کی تبلیغ ہندوستان میں اسی طرح پھیلی ہے۔حضرت معین الدین چشتی کوئی اتنے بڑے عالم نہ تھے بلکہ انہوں نے اپنے اعمال کے ساتھ، دعاؤں کے ساتھ ، ہمدردی کے ساتھ ہندوؤں کو مسلمان بنایا۔اس لئے تم اپنی تبلیغ غیر احمد یوں سے ہی مخصوص نہ کرو بلکہ ہندوؤں عیسائیوں میں بھی تمہاری تبلیغ ہو۔اور ان سے بھی تمہارا ویسا ہی سلوک ہو۔مجھے ہندو یہاں دعا کے لئے لکھتے ہیں ، نذریں بھیجتے ہیں۔ان میں بھی سعید روحیں موجود ہیں۔اگر ان کو صداقت کی طرف بلایا جائے اور صداقت کی راہ دکھائی جائے تو وہ صداقت کو قبول کر لیں۔