زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 246

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 246 جلد اول۔متحد ہو کہ کوئی چیز اسے جدا نہ کر سکے۔اگر شامی احمدی ہوں تو انہیں یہ خیال نہ پیدا ہونے دیں کہ ہم شامی احمدی ہیں۔اسی طرح جو مصری احمدی ہوں ان کے دل میں یہ خیال نہ ہونا چاہئے کہ ہم مصری احمدی ہیں۔یہی بات ہندوستانی احمدیوں کو یاد رکھنی چاہئے کیونکہ مذہب اسلام وطنیت کو مٹانے کے لئے آیا ہے اس لئے نہیں کہ جب وطن کو مٹانا چاہتا ہے۔اسلام تو خود کہتا ہے جب وطن ایمان کی علامت ہے 1 مگر وہ وطن کو ادنی قرار دیتا ہے اور اس سے اعلیٰ یہ خیال پیش کرتا ہے کہ ساری دنیا کو اپنا وطن سمجھو۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ انسانیت کو وطن سمجھو۔دنیا سے مراد تو وہ انسان ہوتے ہیں جو زندہ ہوتے ہیں مگر انسانیت سے مراد وہ تمام انسان ہیں جو پہلے گزر چکے اور جو آئندہ آئیں گے۔ایک مسلمان کا کام جہاں پہلوں کی نیکیوں کو قائم کرنا اور ان کے الزامات کو مٹانا ہوتا ہے وہاں آئندہ نسلوں کے لئے سامان رشد پیدا کرنا بھی ہوتا ہے۔اس کے لئے انسانیت ہی مطمح نظر ہو سکتی ہے۔پس ہمارے مبلغوں کو یہ مقصد مد نظر رکھ کر کھڑا ہونا چاہئے اور ہمیشہ اسی کو مد نظر رکھنا چاہئے۔اس کے بعد میں دعا پر تقریر ختم کرتا ہوں اور دوستوں سے بھی چاہتا ہوں کہ جانے والے مبلغوں کے لئے اور جو پہلے جاچکے ہیں ان کے لئے بھی دعا کریں کہ خدا تعالیٰ ان کو اپنی رضا پر چلنے کی توفیق دے۔ہر میدان میں ان کا حامی اور ناصر ہو۔خود ان کی عقلوں کو تیز کرے اور ان پر سچائیاں ظاہر کر دے تا وہ ایسی جماعت تیار کر سکیں جو دین کے جھنڈے کو بلند اور اسلام کو روشن کرے۔“ ( الفضل 11 جولائی 1925ء) 1 : موضوعات ملاعلی قاری صفحہ 35 مطبوعہ دہلی 1315ھ