زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 245
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 245 جلد اول سے ثابت کریں کہ وہ مومن اور مخلص ہیں۔اور ایسی باتوں سے مجتنب رہیں جو فتنہ کا موجب ہو سکتی ہیں۔اور ایسے طریق اختیار کریں جو اسلام اور سلسلہ احمدیہ کہ دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں سے لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرنے والے ہوں۔مسلمانوں کو تباہ ہی انشقاق اور افتراق نے کیا ہے۔اگر یہ نہ ہوتا تو آج یہ روز بد بھی نہ دیکھنا پڑتا۔جب کوئی شخص کسی کام پر کھڑا ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے میری یہ رائے ہے اسی کے مطابق ہونا چاہئے۔لیکن اگر وہ ایسی جگہ نہ کھڑا ہو کہ خدا نے اسے کھڑا کیا ہو تو اس وقت اسے عام رائے کو خدا کی طرف سے سمجھنا اور اپنی رائے کو اس کے مقابلہ میں قربان کر دینا چاہئے خواہ اپنی رائے کتنی ہی عزیز کیوں نہ ہو۔پھر ان کا یہ کام ہے کہ ان کے ذریعہ جو جماعت خدا تعالی پیدا کرے اس کا تعلق مرکز سے اس طرح قائم کریں جس طرح عضو کا تعلق جسم سے ہوتا ہے۔کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو ہماری ترقی ہی موجب تنزل ہوگی اور وہی مصرعہ صادق آئے گا اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے اگر کوئی قوم ترقی کرے مگر اس میں اتحاد نہ ہو، مختلف ممالک کے لوگوں کے درمیان ایسا رشته و داد نہ ہو جو سب کو ایک وجود کی طرح نہ بنائے ، ان کے شعور اور افکار کو ایک سے نہ کر دے تو اس کا بڑھنا تنزل کا باعث ہوتا ہے۔اور ایک ایک آدمی جو اس میں داخل ہوتا ہے اس کی خرابی کا باعث بنتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے پانی کے گلاس میں ایک تولہ پیشاب ڈال دیا جائے۔اس سے بے شک پانی کا وزن بڑھ گیا مگر اس میں کیا شک ہے کہ سارا گلاس خراب ہو گیا۔تو اس طرح کی ترقی کا نہ صرف کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ نقصان ہوتا ہے۔کیونکہ اس طرح پہلے جو جماعت ہو وہ بھی ضائع ہو جاتی ہے۔اگر مختلف ممالک کی مختلف جماعتوں میں اتحاد نہ ہو تو یہ ترقی تنزل کا پیش خیمہ ہوگی۔پس مبلغین کا سب سے مقدم فرض یہ ہے کہ احمدیت میں داخل ہونے والوں کا آپس میں ایسا رشتہ اور محبت پیدا کرنے کی کوشش کریں جس کی وجہ سے ساری جماعت اس طرح