زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 236

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 236 جلد اول ہے۔پھر جب کوئی شخص اس درجہ سے ترقی کرتا ہے اور قرآن کریم کی اس تعلیم پر عمل کرتا ہے کہ جاؤ جا کر دنیا کو دیکھو۔وہ جا کر دنیا کو دیکھتا ہے تو اس کے نظاروں کو قرآن کریم کے خلاف پاتا ہے۔اس وقت اس کا دل شکوک اور شبہات سے بھر جاتا ہے۔لیکن اس مرحلہ پر پہنچ کر جو شخص ہمت نہیں ہارتا بلکہ یقین رکھتا ہے کہ قرآن کریم بلاشبہ خدا کا کلام ہے اس وقت وہ اپنے ناقص علم سے قرآن کے خلاف فیصلہ نہیں کرتا بلکہ اس پر گہرا غور وفکر کرتا ہے تو قران کریم کے حقائق اور معارف کی کھڑکیاں اس پر کھولی جاتی ہیں۔حتی کہ وہ ایسے دروازہ سے گزرتا ہے کہ اسے قرآن کریم میں نور ہی نور نظر آتا ہے۔اس پر بڑے بڑے خزانے کھولے جاتے ہیں، باریک در باریک راز منکشف کئے جاتے ہیں اس وقت وہ دیکھتا ہے کہ قرآن کریم کا ہر لفظ قانون قدرت کے مطابق ہے۔اس وقت اس کے دل میں بھی یقین داخل ہو جاتا ہے اور پھر کوئی علم ، کوئی مشاہدہ اس کے یقین کو باطل نہیں کر سکتا بلکہ اور زیادہ مضبوط کرتا ہے۔یہ تین حالتیں ہوتی ہیں جن میں سے ایک مومن گزرتا ہے۔اس وقت نہ صرف عام مسلمانوں سے بلکہ احمدیوں میں سے بہت لوگ جو یقین رکھتے ہیں کہ اسلام دنیا میں پھیلے گا ان میں بھی بہت سے ایسے ہیں جو پہلے درجہ میں ہی ہیں۔وہ ان مشکلات اور رکاوٹوں کو نہیں جانتے جو اشاعت اسلام میں حائل ہیں۔وہ لوگوں کے عقائد اور خیالات اور حالات کے گہرے اثر سے واقف نہیں۔وہ خیال کرتے ہیں کہ کوئی وجہ نہیں دنیا اسلام کو نہ مان لے۔ہم فلاں گاؤں میں گئے تھے وہاں یہ دلائل دیئے تھے جنہیں لوگوں نے مان لیا تھا۔حالانکہ بات یہ ہوتی ہے کہ انہوں نے ادنی تعلیم والے لوگوں کے سامنے دلائل پیش کئے ہوتے ہیں اور خواہ وہ ایم۔اے ہی کیوں نہ ہوں حقیقی علوم سے ناواقف ہوتے ہیں۔اگر ایسے لوگوں نے دلائل تسلیم کر لئے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ساری دنیا اسی طرح تسلیم کر لے گی اور وہ دنیا تسلیم کرلے گی جس کا یہ خیال ہے کہ اسلام کی پہلی تعلیم نے ہی مسلمانوں کو گرایا ہے اب نئی تعلیم کی ضرورت ہے جو ترقی کی طرف لے جائے۔اس کے