زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 225
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 225 جلد اول پر پولیٹکس والے ہیں۔سوسائٹی میں گوان کا درجہ اول نہیں مگر ان کا اثر بہت زیادہ ہوتا ہے۔تیسرے اخباری یا علمی مذاق کے لوگ ہیں جو مصنف ہوتے ہیں ان میں بھی چوٹی کے آدمی چن لئے جاویں۔خبریں پہنچانے والی ایجنسیوں کے سوا سائیکلوجی اور دوسرے علم کے ماہرین سے تعلقات بڑھائے جائیں۔چونکہ یہ علمی مذاق کے لوگ ہر جگہ پہنچ سکتے ہیں ان کے ذریعہ انسان ایسی جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں اس کے کام کو تقویت ہوتی ہے۔سب سے قابل آدمی وہ ہے جو خوش مذاق ہو ، رونی شکل والا سوسائٹی میں مقبول نہیں ہو سکتا۔علمی سوسائٹیوں میں ہیومر (Humour) ( زندہ دلی) کے بغیر انسان ترقی نہیں کر سکتا ہے۔ایسی مجلسوں میں اختلاف ہوتا ہے۔اپنی بات کہتا ہی جاوے اور دوسروں کی بھی بغیر کبیدگی اور کشیدگی کے سن لے۔اس طرز پر بات ہو کہ چڑے نہیں اور ناراض نہ ہو اختلاف ہو تب بھی سنے۔مبلغ جب مختلف سوسائٹیوں میں تعلقات کو بڑھاتا ہے تو اس کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ ملاقاتوں میں ایسار ہے کہ لوگ اعتراض نہ کر سکیں اور وہ اپنے کریکٹر کو مضبوط رکھے اس کا آخر اثر ہوتا ہے۔پھر جن باتوں پر یورپ اعتراض کرتا ہے بار بار ان کو پیش کیا جاوے۔مثلاً کثرت ازدواج کا مسئلہ ہے۔ایسے بہت سے لوگ ملیں گے جو اس کے موید ہیں۔بعض اخبارات میں فرضی نام سے مضمون لکھ دیتے ہیں ایسے لوگوں سے اسی اخبار کی معرفت خط و کتابت ہو سکتی ہے اور پھر تعلقات بڑھا کر ان کے پیچھے پڑو جو اس کے موید ہوں۔ان سے اس قسم کی سوسائٹیاں بناؤ۔ایسی سوسائٹیاں خود غلط فہمیوں کو دور کر دیں گی اور ان اصولوں کو توڑ دیں گی جو ہماری راہ میں روک ہو سکتے ہیں۔مذہبی نقطہ خیال کو مدنظر رکھ کر عیسائیوں کو کہہ سکتے ہیں کہ اگلے نبیوں نے ایک سے زیادہ شادیاں کی تھیں اور بعض قومی ضروریات اس کی مقتضی ہوتی ہیں۔جب کچھ لوگ پیدا ہو جائیں گے تو وہ آپ دوسروں سے بحث کریں گے۔