زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 224

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 224 جلد اول مبلغ کے فرائض میں یہ بات بھی ہے کہ وہ سوشل ہو اور لوگوں سے اپنے تعلقات کو بڑھائے۔اس معاملہ میں بھی اب تک مبلغین سے ایک غلطی ہوئی ہے کہ انہوں نے سوسائٹی کے اعلیٰ طبقہ کو چھوڑ دیا اور انہوں نے اس کی طرف توجہ ہی نہیں کی اور کوشش ہی نہیں کی کہ ان سے ملیں اور اپنے تعلقات کو بڑھائیں۔کسی کام کی عمدگی کا اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ اس کے کام کو کیا سمجھتے ہیں اور جس قسم کی سوسائٹی میں وہ کام کرتا ہے اس پر اثر پڑتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے دیکھا کہ ایک مسلمان دشمن کے سامنے اکڑ کر چلتا تھا۔آپ نے فرمایا کہ اکڑ کر چلنا اچھا نہیں مگر اس کا چلنا خدا کو پسند ہے۔3 بعض اوقات دکھانا بھی ضروری ہوتا ہے۔غرض تعلقات کے بڑھانے میں سوسائٹی کے اعلیٰ طبقہ کو چھوڑ نہیں دینا چاہئے۔اعلیٰ سوسائٹی سے تعلق ہو تو انسان کے اثر کا دائرہ بڑھ جاتا ہے اور بارسوخ ہو کر کام زیادہ وسعت سے کر سکتا ہے اور ان تعلقات کا بڑھانا بھی کام سمجھا جائے گا۔یہاں جولوگ پولیٹیکل یا سوشل حالت کے لحاظ سے اعلیٰ درجہ کے سمجھے جاتے ہیں اگر وہ ہمارے مبلغین کو بلائیں یا ان کے ہاں آئیں تو لوگ محسوس کریں گے کہ سوسائٹی پر ان کا رعب اور ادب ہے۔خواہ وہ علم کے لحاظ سے ہو یا روحانیت کے لحاظ سے۔اور پھر یہ لوگ خواہ مسلمان نہ ہوں لیکن ان کے ذریعہ سے مدد ملتی ہے۔ہندوستان میں دیکھا ہے کہ جن بڑے شہروں میں با اثر ہندوؤں یا غیر احمدی مسلمانوں کے ہمارے لوگوں سے سوشل تعلقات ہیں وہاں ہماری جماعت کو لیکچروں کے متعلق آسانی ہوتی ہے اور لیکچر ہو جاتے ہیں۔میری مراد اعلیٰ طبقہ سے چوٹی کا طبقہ ہے اس سے تعلقات پیدا کرو۔ایک سوسائٹی کے آدمی ہوتے ہیں۔انہوں نے کوئی ملکی یا علمی کام نہیں کیا ہوتا مگر وہ ہر سوسائٹی میں دخل رکھتے ہیں۔بعض اوقات پولیٹیکل آدمیوں سے بھی زیادہ ان کا رسوخ ہوتا ہے۔لوگوں کو ان کے اثر سے فائدہ پہنچتا ہے اور وہ فائدہ پہنچاتے ہیں اس لئے ان کے اثر کا حلقہ وسیع ہوتا جاتا ہے۔پس ایسے لوگوں سے تعلقات بڑھانا اپنے کام کو وسیع کرنا ہے۔دوسرے درجہ