زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 223
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 223 جلد اول جانتا ہوں کہ اگر کوئی بات آپ کے منشاء کے خلاف کرے تو آپ اس کو کہ نہیں سکتے۔میں اس کو بزدلی کہتا ہوں یہ بات نہیں ہونی چاہئے۔یہ ذاتی کام نہیں کہ اس میں انسان اگر نظر انداز کر دے تو کچھ بات نہیں مگر اس سے سلسلہ کے انتظام پر اثر پڑتا ہے۔ذمہ داری یہ ہے کہ انسان کام لے۔اخلاق کا کمال یہ نہیں کہ کام نہ ہوتا ہو اور افسر خاموش رہے۔ایسے موقع پر یہی اخلاق ہے کہ اپنے ماتحت سے باز پرس کرے مگر اس میں اخلاق اور محبت کے پہلو کو ترک نہ کرے۔اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر اس کا کوئی نقص ہے اور وہ ماتحت کام نہ کرتا ہو تو اس کی اطلاع فوراً مرکز کو کرنی چاہئے اور بتانا چاہئے کہ کیا نقص ہے۔یہاں کے انچارج ہمیشہ ایک غلطی کرتے رہے ہیں کہ اپنے آپ کو ایک مستقل چیز سمجھتے رہے ہیں۔سلسلہ کو کبھی ایسی اطلاع نہیں دی جس سے معلوم ہو کہ کیا غلطی ہو رہی ہے۔لکھا تو یہ لکھ دیا کہ فلاں سے غلطی ہوئی اللہ معاف کرے مگر یہ نہ بتایا کہ کیا غلطی ہوئی۔گویا وہ خود ہی ایک مستقل چیز تھے۔مرکز کے لئے ضروری نہیں کہ اس سے واقف ہو۔یہ غلطی پہلوں نے کی ہے آئندہ نہیں ہونی چاہئے۔مبلغ کا فرض ہے کہ ہر حالت کا اور ایک ایک بات کا نقشہ بھیجے خواہ مخالف کے متعلق ہو یا موافق کے۔اور ان کا فرض ہے کہ اپنی موافق اور مخالف ہر قسم کی کوششوں کا علم رکھیں۔رسول اللہ یہ اس قدر خیال رکھتے تھے کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے بعض کا قول نقل کیا ہے کہ وہ کہتے تھے۔هُوَ اذن 2 ب کریم و تو کان ہی کان ہیں۔یہ امر صلى الله ظاہر کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کس قدر محتاط اور باخبر تھے اور آپ کا یہ نمونہ اسی لئے ہے کہ مومن اسی طرح ہوشیار اور باخبر رہے۔لوگوں کو یہ کہہ دینا کافی نہیں ہوتا کہ یہ جھوٹ ہے غلط ہے وہ اس سے زیادہ چاہتے ہیں۔سنی سنائی بات نہ ہو واقعات سے اس کی تائید ہو۔غرض کوئی بات ہو مخالف ہو یا موافق وہ مرکز میں لکھنی چاہئے بغیر اس کے صحیح ہدایات نہیں مل سکتیں اور کام کا نقصان ہوتا ہے۔پس پہلے اگر یہ غلطی ہوئی ہے تو آئندہ نہیں ہونی چاہئے۔