زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 17
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 17 جلد اول نقصان اٹھایا ہے۔بعض نے سمجھا کہ نوکر چاکروں کی طرح کام کرے۔یہ مراد نہیں اس غلط نہی کی وجہ سے ملا نے پیدا ہوئے جن کے کام مردے نہلا نا ہوا کرتا ہے۔کوئی بیماری ہو جائے تو کہتے ہیں بلاؤ میاں جی کو وہ آکر اس کی خدمت کریں۔کھیتی کاٹنی ہو تو چلو میاں جی۔گویا میاں جی سے وہ نائی ، دھوبی جس طرح ہوتے ہیں اس طرح کام لیتے ہیں۔دوسری صورت پھر پیروں والی ہے۔پیر صاحب چار پائی پر بیٹھے ہیں کسی کی مجال نہیں کہ پیر صاحب کے سامنے چار پائی پر بیٹھ جاوے۔حافظ صاحب سناتے تھے ان کے والد بھی بڑے پیر تھے لوگ ہمیں آکر سجدے کیا کرتے تھے۔تو میں نے ایک دفعہ اپنے باپ سے سوال کیا کہ ہم تو مسجد میں جا کر سجدے کسی اور کے آگے کرتے ہیں اور یہ لوگ ہمیں سجدے کرتے ہیں۔اس پر میرے والد نے ایک لمبی تقریر کی۔تو ایک طرف کا نتیجہ میاں جی پیدا ہوئے جو جھوٹی گواہی دینی ہوئی تو چلو میاں جی۔اور اگر انکار کریں تو کہہ دیا کہ تمہیں رکھا ہوا کیوں ہے۔آپ قیامت کے دن کیا خاک کام آئیں گے جو اس دنیا میں کام نہ آئے۔اور دوسری طرف پیر صاحب جیسے پیدا ہو گئے۔تو دونوں کا نتیجہ خطر ناک نکلا۔یہ بڑی نازک راہ ہے۔مبلغ خادم ہو اور ایسا خادم ہو کہ لوگوں کے دل میں اس کا رعب ہو۔خدمت کرنے کے لئے اپنی مرضی سے جائے۔ڈاکٹر پاخانہ اپنے ہاتھوں سے نکالتے ہیں لیکن کوئی انہیں بھنگی نہیں کہتا۔ڈاکٹر اپنے ہاتھوں سے بنا کر دوائی بھی پلاتے ہیں لیکن کوئی انہیں کمپونڈ رنہیں کہتا۔وہ بیمار کی خاطر داری بھی کرتے ہیں لیکن کوئی انہیں ان کا خادم نہیں کہتا۔یہ اس کی شفقت سمجھی جاتی ہے۔اس لئے جب تم میں بھی تو کل ہوگا اور تم کسی کی خدمت کسی بدلے کے لئے نہیں کرو گے تو پھر تمہاری بھی ایسی ہی قدر ہو گی۔وہ شفقت سمجھی جائے گی وہ احسان سمجھا جائے گا۔اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو اس کی تشفی دینے والا ہمارا مبلغ ہو۔کوئی بیوہ ہو تو حسب ہدایات شریعت اسلامیہ اس کا حال پوچھنے والا ، اس کا سودا وغیرہ لانے والا اور اس کے دیگر کاروبار میں اس کی مدد کرنے والا ہمارا مبلغ ہو۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کے دلوں میں دو چیزیں پیدا ہوں گی۔ادب ہوگا اور محبت ہوگی۔تو کل کا نتیجہ ادب ہوگا اور خدمت کا نتیجہ محبت ہوگی۔مبلغ