زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 221

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 221 جلد اول لندن مشن کے متعلق ہدایات 14اکتوبر 1924 حضرت خلیفہ اسیح الثانی باند خدام کے ساتھ حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم اے کو لندن مشن کی چابی عطا فرمانے کے لئے از راہ شفقت خود بینی تشریف لے گئے۔پٹنی پہنچنے پر آپ نے لمبی دعا کروائی اور دعا کے بعد اپنے ہاتھ سے مولوی عبدالرحیم صاحب درد کو کلید عطا فرمائی اور اس موقع پر حسب ذیل ہدایات فرمائیں۔”میاں غلام فرید صاحب! آپ نے مولوی صاحب کی اطاعت میں کام کرنا ہے۔ساری ترقی اور برکات اپنے افسروں کی اطاعت میں ہیں۔میں جانتا ہوں کہ طبائع میں اختلاف ہوتا ہے اور یہ قدرتی امر ہے اعلیٰ سے اعلیٰ محبت کے تعلقات میں بھی رنج پیدا ہو جاتا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا با وجود اس محبت کے جو ان کو آنحضرت ملے سے تھی ایک دفعہ آپ سے ناراض ہو گئیں لیکن وہ ایسی ناراضی نہ تھی کہ اس سے نافرمانی پیدا ہوتی بلکہ ان کے اخلاص واطاعت میں زیادتی ہی ہوتی رہی۔اس لئے اگر اختلاف بھی ہو تو بھی کبھی یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ان کی نافرمانی کی جاوے بلکہ محبت کے ساتھ اس الله کام کو کرنا چاہئے جو وہ سپر د کریں کیونکہ یہ کام خدا کا کام ہے نہ کسی انسان کا۔دوسری بات یہ ہے کہ اطاعت کامل نہیں ہوتی جب تک اس میں نشاط نہ ہو۔خدا تعالیٰ نے مومنین کی صفات میں یہ فرمایا ہے ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ ! یعنی آنحضرت ﷺ کے فیصلہ پر وہ راضی ہوتے ہیں اور اس فیصلہ پر ان کے قلب میں کوئی تنگی نہیں پیدا ہوتی بلکہ وہ خوشی اور نشاط کے ساتھ اسے تسلیم کرتے ہیں۔یہ اصول بتا دیا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی زندگی میں اپنے افسروں کی اطاعت کس طرح کرنی چاہئے کہ اس الله