زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 215

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 215 جلد اول کالی بھیڑیں بھی ہوتی ہیں یعنی کمزور بھی ہوتے ہیں۔اسی کے مطابق میرا خیال ہے کہ کئی طلباء نے اس تقریر کو نہیں سمجھا ہو گا مگر آئندہ ان کو اس طرف توجہ کرنا چاہئے اور انگریزی میں قابلیت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں نے یہ محاورہ برے معنے میں استعمال نہیں کیا بلکہ میرے کالی بھیڑ کہنے سے ایسے طلباء مراد ہیں جو اپنے کام کی طرف پوری توجہ نہیں کرتے۔ایسے طلباء میں سے جو سکول میں نہیں پڑھا کرتے ایک میں بھی تھا جو پڑھتا نہ تھا۔ایک دفعہ مفتی صاحب نے امتحان لیا۔میں نے جواب لکھا۔مجھے مفتی صاحب نے بلوا کر پوچھا ایک لفظ نہیں سمجھ میں آتا۔تم نے کیا لکھا ہے؟ وہ لفظ To تھا جس کو میں نے ہر جگہ Tow لکھا تھا۔جب کبھی ڈکٹیشن لکھوایا جاتا تھا مجھے یاد نہیں کہ کبھی سترہ غلطیوں سے کم غلطیاں نکلی ہوں۔اس سے زیادہ ضرور ہوتی تھیں۔مولوی شیر علی صاحب جن کو میری انگریزی کا بہت خیال رہتا تھا گڑھا کرتے تھے لیکن اس میں کچھ شبہ نہیں کہ سترہ سے کبھی کم غلطیاں نہیں ہوئیں گو میں نے اب انگریزی میں ترقی کر لی ہے مگر ہجے میں اب بھی کمزوری ہے۔تاہم اس زمانے اور اُس وقت کی انگریزی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اور میں خدا کے فضل کے اظہار کے لئے کہتا ہوں کہ اب مجھے کئی گریجوایٹوں سے زیادہ انگریزی کے الفاظ اور محاورے آتے ہیں اور ان کا استعمال جانتا ہوں۔اگر میرے جیسا طالب علم جس کی مثال او پر بیان کی گئی ہے اس قدر ترقی کر سکتا ہے تو وہ بچے جو محنتی ہوں ان سے کس قدر امید کی جاسکتی ہے۔میں نے اپنی طالب علمی کے زمانہ کا یہ واقعہ محض قصے کے طور پر نہیں سنایا بلکہ اپنے مخاطب بچوں کو ان کا فرض یاد کرایا ہے۔وہ زمانہ جو میری طالب علمی کا زمانہ تھا اس میں تعلیم کا طریق وہ نہ تھا جو آج ہے۔اُس وقت صرف ریڈر پر زور دیا جاتا تھا اور یہ نہیں بتایا جاتا تھا کہ وہ ریڈر کے علاوہ اور کس طرح علم زبان میں ترقی کر سکتے ہیں۔گرامر کے قواعد حفظ کرائے جاتے تھے۔یہ طریق نہ تھا کہ لڑکے انگریزی میں جواب دیں اور استاد انگریزی میں سبق پڑھائے۔لڑکے