زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 213

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 213 جلد اول ثواب کے مستحق نہیں۔اس لئے ہماری نیت اور ارادہ یہ ہونا چاہئے کہ جہاں بھی ضرورت ہوگی ہم خدمت دین کریں گے۔اگر کسی مجبوری کے باعث نہ جاسکیں تو وہ علیحدہ بات ہے۔اور ہماری وہ حالت خدا سے مخفی نہیں ہوگی اس لئے ہمیں ثواب ضرور ملے گا۔چنانچہ حضرت نبی کریم ﷺ نے ایک دفعہ لڑائی پر جاتے ہوئے فرمایا مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم کسی وادی سے نہیں گزرتے مگر وہ بھی تمہارے ساتھ ہوتے ہیں اور ان کو اس کا پورا ثواب ملتا ہے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کون لوگ ہیں ؟ ارشاد ہوا تمہارے وہ بھائی جو چاہتے ہیں کہ جس طرح تم نکلے ہو اسی طرح وہ بھی نکلیں مگر وہ مجبوری کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکتے۔1 پس اگر تم ایسا ایڈریس پیش کرو جس کا یہ مطلب ہو کہ تم بھی دین کی خدمت کے لئے تیار ہو اور جہاں ضرورت ہو وہاں جانے کے لئے آمادہ تو یہی سچا اور حقیقی ایڈریس ہوگا اور عملی ایڈریس کہلائے گا۔اس کے بعد میں دعوت دینے والے اور کھانے والے یعنی مفتی صاحب کے لئے بھی دعا کرتا ہوں۔کھلانے والوں کے لئے یہ کہ ان کو بھی خدمت دین کی توفیق ملے اور مفتی صاحب کے لئے یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور اس زنگ سے بچائے جو خدمات کے بعد قلب پر لگنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ ان کے اخلاص میں ترقی دے اور پھر ان کے لئے بھی جو دعوت میں شامل ہوئے ہیں میں دعا کرتا ہوں کیونکہ حدیث میں آتا ہے لَا يَشْقَى جَلِیسُهُمْ 2 خدا تعالیٰ ان کو بھی خدمت دین کی توفیق دے۔“ (الفضل 18 دسمبر 1923ء) 1 بخارى كتاب الجهاد والسير باب من حبسه العذر عن الغزو صفحه 470 حدیث نمبر 2839 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 2 بخاری کتاب الدعوات باب فضل ذكر الله عز وجل صفحہ 1113،1112 حدیث نمبر 6408 مطبوعہ ریاض 1999ء الطبعة الثانية