زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 200

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 200 جلد اول روس والوں نے غلطی کی ہے مگر باوجود اس کے ہم یہی کہیں گے کہ جو لوگ اس کی رعایا ہیں وہ اس کے قوانین کی پابندی کریں۔اس وجہ سے ان کے ملک میں جماعت احمدیہ کا پھیلنا ان کے لئے کسی قسم کے خطرہ کا باعث نہیں ہو سکتا۔مگر ابھی وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکتے اور جب کہ انگریز نہیں سمجھ سکے جن کے ماتحت ہم کئی سال سے ہیں اور جن کی وجہ سے ہم امریکہ، جرمنی ، مصر و غیرہ ممالک میں جا کر نقصان اٹھاتے اور مشکلات برداشت کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ ان کی اپنے ملک میں جماعت نہ بننے دو ورنہ انگریزوں کے ذریعہ نقصان پہنچائیں گے۔تو ہم ان نئے ممالک میں جو ہمارے اصول سے بالکل ناواقف ہیں کب امن سے رہ سکتے ہیں۔ہم تو ابھی اس اپنے ملک میں بھی کئی قسم کے نقصان برداشت کر رہے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ کوئی انگریز افسر ذاتی خوبی اور سلسلہ کی صحیح واقفیت سے انفرادی معاملہ میں ہمارے ساتھ انصاف کرے۔مگر بہ حیثیت حکومت انگریزوں سے ہمیں فائدہ نہیں پہنچا۔ان کے ہاں یہ قاعدہ معلوم ہوتا ہے کہ غالب کو دیکھو اور اسی کی طرف جھکو۔پس جب کہ ابھی تک انگریز بھی ہم پر مطمئن نہیں تو روسی کہاں مطمئن ہو سکتے ہیں۔مگر ہم اس پر ناراض نہیں ہوتے اور چڑتے نہیں۔کئی لوگ کہتے ہیں کہ جب انگریزوں کا ہمارے ساتھ ایسا سلوک ہے تو ہم وفاداری کیسی کریں۔مگر یاد رکھنا چاہئے کہ ہم ان کے لئے وفاداری نہیں کرتے بلکہ اپنے اصل کے ماتحت کرتے ہیں اور اگر انگریز ہمیں ماریں گرفتار کر لیں تو بھی ہم اسی اصل پر قائم رہیں گے۔غرض روسی ابھی ہم پر مطمئن نہیں ہو سکتے اور وہ اس میں معذور بھی ہیں۔ہمیں ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہئے اور انہیں اپنے عقائد و اصول سے آگاہ کرنا چاہئے۔مگر جب تک ایسا نہیں ہوتا ہم ان لوگوں کو چھوڑ نہیں سکتے جو ان کے ملک میں احمدی ہو چکے ہیں۔میں نے اپنی جماعت کو کئی بار بتایا ہے کہ ابھی مالی قربانی کا وقت ہے اس سے فائدہ اٹھا لو۔مگر اس سے یہ نہ سمجھو کہ جانی قربانی نہیں کرنی پڑے گی۔کرنی پڑے گی اور ضرورت کرنی پڑے گی۔ایک خطبہ جمعہ میں میں نے کہا تھا کہ یہ مت سمجھو کہ ہم انگریزوں کی