زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 201
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 201 جلد اول حکومت میں رہتے ہیں جان دینے کا کہاں موقع ہے۔بلکہ وہ وقت بھی آئے گا جب کہ جان کی قربانی کرنی ہوگی اور کوئی عجب نہیں کہ روس میں ہی ہمیں جانیں دینی پڑیں۔روس کے متعلق جو حضرت مسیح موعود کی پیشگوئیاں ہیں وہ ضرور پوری ہوں گی اور وہاں جلدی احمدیت پھیلے گی۔میری بھی ایک رؤیا ہے کہ حضرت مسیح موعود کہیں سے تشریف لائے میں نے پوچھا آپ کہاں سے آئے ہیں آپ نے فرمایا میں امریکہ سے آ رہا ہوں اب بخارا جا رہا ہوں۔امریکہ میں خدا کے فضل سے سات سو کے قریب عیسائی مسلمان ہو چکے ہیں اور تین مسجدیں بن گئی ہیں۔پھر ایک اور روچلی ہے۔وہاں جو حبشی بستے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ان کو بھی قانو نا وہی حقوق حاصل ہوں جو سفید لوگوں کو حاصل ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ہمیں مسلمان ہو جانا چاہئے۔چنانچہ ان کی کانگریس کا جو اخبار ہے اس نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ پوری مساوات ہمیں تبھی مل سکتی ہے جب کہ ہم مسلمان ہو جائیں اور بہت سے مسلمان ہو بھی چکے ہیں اور ان پر احمدیت کا اثر ضرور ہو گا کیونکہ وہ لیگوس سے گئے ہوئے ہیں جہاں احمدیت پھیل رہی ہے۔مگر وہاں بھی ہمیں یہی وقت ہے کہ ان لوگوں کا خیال ہے کہ ہم مسلمان ہو کر سفید لوگوں کا مقابلہ کریں جو حاکم ہیں۔اگر وہ سمجھ لیں کہ ایسا کرنے کے بغیر بھی حقوق مل سکتے ہیں تو وہ اڑھائی کروڑ کے قریب لوگ ہیں جو جلدی مسلمان ہو سکتے ہیں۔غرض بخارا کے متعلق مسیح موعود علیہ السلام کی یہ رویا ہے کہ زار روس کا سونٹا آپ کو دیا گیا 1 اور خوارزم بادشاہ کی کمان آپ کے ہاتھ میں آگئی۔یہ پیشگوئیاں ضرور پوری ہوں گی۔ایک دفعہ میں لاہور سے روانہ ہوا تو پر و فیسر سید عبد القادر صاحب ایم۔اے اور کچھ کالج کے لڑکے سٹیشن پر ملنے آئے۔گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر صاحب نے کہا آپ کہتے ہیں حضرت مرزا صاحب کی فلاں فلاں پیشگوئیاں پوری ہو گئیں کیا آئندہ کے متعلق بھی کوئی پیشگوئی ہے جو پوری ہوگی ؟ اس وقت میں نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رؤیا ہے کہ زار روس کا سونٹا مجھے دیا گیا۔اس کے مطابق زار کی حکومت