زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 199
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 199 جلد اول پابند ہیں نہ اس لئے کہ ہم ان کے ایجنٹ ہیں۔اور وہ اصل جس کے ماتحت ہم اطاعت کرتے ہیں اس کے رو سے ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اگر کابل پر حملہ ہو تو ہم اپنی جماعت کے وہاں کے لوگوں کو تاکید کریں گے کہ اپنی حکومت کا ساتھ دیں اور خواہ انگریز ہی حملہ کریں ان کا مقابلہ کر کے جانیں دے دیں۔اسی طرح اور ممالک کے احمدیوں کو کہیں گے اور یہ ان کا فرض ہوگا۔اور دنیا میں امن اسی طرح قائم ہو سکتا ہے کہ ایک ملک کی رعایا اپنے ملک کی خاطر مرنے مارنے کے لئے تیار ہو جائے۔جب کوئی قوم یہ ارادہ کر لے تو دشمن اس ملک کے کھنڈروں پر قبضہ کرنے کے لئے حملہ نہیں کرے گا۔اگر دشمن کو یہ معلوم ہو جائے کہ سارا ملک تباہ ہو جائے گا اور تمام کے تمام لوگ اپنے ملک کے لئے جانیں دے دیں گے تب میں اس ملک میں داخل ہوسکوں گا تو کبھی کوئی کسی ملک پر حملہ کرنے کا خیال نہ کرے۔مثلاً کا بل ہی ہے اگر انگریز چاہیں کہ اس ملک کی کانیں وغیرہ حاصل کرنے کے لئے اس پر حملہ کریں لیکن کابل کی ساری رعایا احمدیت کی اس تعلیم کے ماتحت اس ارادہ سے کھڑی ہو جائے کہ سارے کے سارے مر جائیں گے لیکن اپنے ملک میں کسی کو داخل نہ ہونے دیں گے تو انگریز حملہ کرنے کی کبھی جرات نہ کریں گے خواہ کتنے ہی طاقتور ہوں۔وجہ یہ ہے کہ جب اس طرح کوئی قوم جان شاری کے لئے تیار ہو جاتی ہے تو ساری دنیا کی ہمدردی حاصل کر لیتی ہے۔کیونکہ لوگ دشمن کی بہادری کی بھی تعریف کرتے ہیں۔تو ہمارا یہ اصول ہے اگر اس پر سب لوگ عمل کرنے لگ جائیں تو کبھی جنگ نہ ہو۔اس وقت دنیا میں دو قسم کی حکومتیں ہیں۔ایک پرانی قسم کی مثلاً انگریزوں کی حکومت اور ایک نئی قسم کی مثلاً روسی حکومت۔مگر ہم ان دونوں طریق کو لغو سمجھتے ہیں۔ہم نہ یہ پسند کرتے ہیں کہ ایک حصہ ملک کے ہاتھ میں ساری حکومت ہو اور نہ یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کے ذاتی حقوق میں بھی دخل دیا جائے اور وہ بھی اڑا دیئے جائیں۔جیسا کہ روسیوں کا طریق عمل ہے۔اور یہ غلط اور تباہ کن طریق ہے۔ذاتی ملکیت کے سوا ترقی نہیں ہو سکتی۔تو