زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 198

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 198 جلد اول اس لحاظ سے اور بھی خطرہ میں تھے۔اور یہی وجہ ہے کہ جس قد ر عرصہ یہ اس علاقہ میں رہے اس کا زیادہ حصہ قید میں گزارا اور تھوڑا آزادی میں۔میں سمجھتا ہوں دس دن میں سے 9 دن قید میں رہے ہیں اور ایک دن آزاد۔باوجود ان حالات کے یہ اور بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو بچا لیا۔مگر خطرہ تھا کہ مارے جاتے۔اگر اس علاقہ میں ان کے جانے کی جو غرض تھی یعنی یہ کہ وہاں جو احمدی ہیں ان کے حالات دریافت کریں یہ تو پوری نہ ہوئی تاہم ان کے ذریعہ ایک اور جماعت بن گئی۔میری غرض ان کو وہاں بھیجنے کی یہ تھی کہ جو لوگ اس علاقہ میں احمدی ہو چکے ہیں ان کا پتہ لگائیں اور ان کے حالات دریافت کریں۔گو اس میں ان کو کامیابی نہیں ہوئی۔بوجہ اس کے کہ ان کو بہت زیادہ عرصہ قید میں رہنا پڑا۔مگر ایک اور جماعت تیار کر آئے ہیں۔یہ بھی ایک بہت بڑا اور بڑا اچھا کام کیا ہے اور اب ہم ان احمدی ہونے والے لوگوں کو کسمپرسی کی حالت میں نہیں چھوڑ سکتے اور نہ ان کو جو پہلے کے احمدی ہیں چھوڑ سکتے ہیں اس لئے ضرورت ہے کہ ہمارے مبلغ وہاں جائیں جو ان کی تلاش کریں اور سلسلہ کے ساتھ ان کا تعلق قائم کریں۔لیکن چونکہ ہم انگریزوں کے وفادار ہیں اور دوسری حکومتیں ہمیں اور رنگ میں دیکھتی ہیں اس لئے جو کوئی ان ممالک میں جائے گا وہ اسی نیت اور ارادہ سے جائے گا کہ مجھے اگر جان بھی دینی پڑے گی تو بڑی خوشی سے دوں گا اور میں دین کی خاطر مرنے کے لئے جا رہا ہوں۔چونکہ ہماری جماعت قریباً 90 فیصدی انگریزوں کے ماتحت ہے اور یہ ہمارا مذہبی فرض ہے کہ جس حکومت کے ماتحت رہیں اس کے قوانین کی پابندی کریں اس لئے زیادہ تر گورنمنٹ انگریزی کے معاملات کی تائید ہی کرتے ہیں اس سے دوسرے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم انگریزوں کے ایجنٹ ہیں حالانکہ یہ غلط اور قطعاً غلط ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ہم جس بھی حکومت کے ماتحت ہوں اسی کے قوانین کی پابندی ہمارا فرض ہے۔چونکہ ہم انگریزوں کے ماتحت ہیں اس لئے ان کی اطاعت کرتے ہیں اور ان کے قوانین کے