زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 197

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 197 جلد اول دین کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ طلبائے مدرسہ احمدیہ نے مجاہد بخارا میاں محمد امین خان صاحب کی آمد کی خوشی میں دعوت چائے دی اور ایڈریس پیش کیا۔خانصاحب موصوف نے اپنے سفر کے کچھ حالات سنائے۔آخر میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی:۔وہ روح جس کے ساتھ مدرسہ احمدیہ کے طلباء نے میاں محمد امین خان صاحب کو ان کی آمد کی خوشی میں ٹی پارٹی دی ہے اس کو میں پسند کرتا ہوں۔لیکن میرے نزدیک اس دعوت کے پیچھے ان کے ارادے اگر اس کام میں مدد کے لئے کھڑے نہ ہوں جس کے لئے محمد امین صاحب گئے تھے اور جس کے لئے انہوں نے بیان کیا ہے کہ میں ہراول کے طور پر تھا اور جو کام انہوں نے کیا ہے جب اس کام کے لئے ہمارے طلباء اور مولوی تیار نہ ہوں اُس وقت تک یہ دعوت نہ صرف ہمارے لئے خوشی کا موجب نہیں بلکہ رنج کا باعث ہے۔کوئی شخص جان کی بجائے چائے کی پیالی اور بسکٹ نہیں پیش کر سکتا اور جو کچھ آج پیش کیا گیا ہے وہ یہی ہے۔مگر تم جانتے ہو کہ جس کام کے لئے تم تیاری کر رہے ہو اور جس کے لئے محمد امین صاحب گئے تھے اس کے لئے چائے کی قربانی کافی نہیں بلکہ اس کے لئے جان کی قربانی چاہئے۔جس علاقہ میں محمد امین صاحب گئے وہاں انگریزوں کی رعایا کا جانا بہت مشکل کام ہے اور ہتھیلی پر سر رکھ کر جانے والی بات ہے۔پھر پاسپورٹ لے کر جانا اور بات ہے۔جن کے پاس یہ ہوتا ہے وہ کسی حد تک خطرات سے محفوظ ہوتے ہیں مگر ان کے پاس پاسپورٹ بھی نہ تھا۔