زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 195

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 195 جلد اول تبلیغ کرنے کے لئے جاتا ہے اس مبلغ کے درجہ سے مساوی ہے جو غریبوں اور فقیروں کو تبلیغ کے لئے نکلتا ہے کیونکہ تبلیغ حق بیان کرنے کا نام ہے اور یہ جاہل کے سامنے بھی کیا جاتا ہے اور عالم کے سامنے بھی ، بادشاہ کے سامنے بھی اور گدا کے سامنے بھی۔تو میری مراد ہر جگہ کی تبلیغ سے ہے۔مگر علاقہ ملکانہ میں ایسی تبلیغ ہے جو جنگی تبلیغ ہے۔اور یہ با برکت زمانہ ہے اس سے آپ لوگوں کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔آپ لوگ دعائیں کرتے جائیں اور بہت دعائیں کریں یہ فتوحات کا وقت ہے۔اس وقت جس طرح بعض آسانیاں بھی ہیں اسی طرح بعض مشکلات بھی ہیں۔آسانیاں تو یہ ہیں کہ تم سے پہلے لوگوں نے جو کام کیا ہے اس کی وجہ سے فتوحات کے دروازہ میں بآسانی داخل ہو سکتے ہو اور مشکل یہ ہے کہ تمہاری ذراسی سستی اور کوتاہی سے سارا کام خراب ہو سکتا ہے۔پس گو تمہارا کام تو آسان ہے مگر ذمہ داری بڑھی ہوئی ہے۔تم آسانی سے پہلے مبلغوں کی محنتوں کے پھل کھا سکتے ہو مگر ذرا سی غفلت سے سب کئے کرائے کو تباہ بھی کر سکتے ہو۔تم خدا کے حضور عاجزی اور زاری کرتے ہوئے جاؤ اور بہت دعائیں کرو کہ خدا تعالی تم کو اس کام کا اہل ثابت کرے اور اپنی برکات سے مستفیض کرے۔باقی ان ہدایات پر پورا پورا عمل کرو جو مطبوعہ تم کو دی گئی ہیں۔مجھے یہ معلوم کر کے بہت افسوس ہوا کہ ایک شخص کئی ماہ ایک گاؤں میں رہتا ہے مگر جب انسپکٹر جا کر گاؤں کے آدمیوں کے نام اور حالات پوچھتا ہے تو وہ بتا نہیں سکتا۔میرے نزدیک جو مبلغ کسی گاؤں میں رہتا ہے وہ اگر وہاں کے ایک آدمی سے بھی واقفیت پیدا کرنے میں سستی کرتا ہے اور چلا آتا ہے تو وہ ناکام ہے۔اس کا کام سب سے اور ایک ایک فرد سے واقفیت پیدا کرنا ہے۔سو ڈیڑھ سو کے قریب آدمیوں سے زیادہ سے زیادہ چار دن کے اندر اندر واقفیت پیدا کی جاسکتی ہے۔آپ لوگ اس بات کو اپنا فرض سمجھیں اور جہاں مقرر کئے جائیں وہاں کے تمام لوگوں سے جلد جلد واقفیت پیدا کریں۔پھر ایسے رنگ میں ان کو تبلیغ کریں کہ جس سے اخلاص اور محبت ٹپکے۔ست انسان دوسرے کو بھی ست کر دیتا ہے اور چست دوسرے میں بھی چستی پیدا کر لیتا ہے۔یہ ممکن نہیں کہ اخلاص