زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 194
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 194 جلد اول علوسام صلى الله کام کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے۔ان لوگوں کو ہدایت خواہ اب ہو، خواہ ہماری نسلوں کے ذریعہ ہو ہم نے کام ہی کرنا ہے اور وہ کرتے جانا چاہئے۔جو لوگ سست ہو گئے ہیں یہ ان کے ایمان کی کمزوری ہے۔انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہی کام کا اصل وقت ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کے ایک مامور کا زمانہ ہے۔کئی لوگ اپنے دل میں یہ حسرت لے کر مر گئے کہ کاش! ہم رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہوتے تو خدمات کرتے۔مگر خدا تعالیٰ نے ہماری حسرتوں کو نکالنے کا ہمیں موقع عطا کر دیا ہے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر ہم رسول کریم کا زمانہ پاتے تو یہ کرتے۔کیونکہ ہمارے لئے حضرت مسیح موعود نے رسول کریم کا زمانہ آ کر دکھا دیا۔اب بھی اسی طرح جہاد کا زمانہ ہے جس طرح رسول کریم کے کے وقت تھا، اب بھی اسی طرح دشمنوں کا مقابلہ در پیش ہے جس طرح اُس وقت تھا ، اب بھی اُسی قدر تکالیف موجود ہیں جس قدر اُس وقت تھیں، آج بھی ایسے ہی خطرات ہیں جیسے اُس زمانہ میں تھے ، اب بھی جان کی اُسی طرح قربانی کی جاسکتی ہے جس طرح اُس زمانہ میں کی جاتی تھی۔کئی علاقے ایسے ہیں کہ جہاں تبلیغ کرنے والوں کو جان کے خطرے ہیں ، اب بھی اسی طرح مال خرچ کرنے کا وقت ہے جس طرح اُس زمانہ میں تھا اور ایسے ہی اعلیٰ مقاصد میں خرچ کر سکتے ہیں جیسے مقاصد کے لئے رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں خرچ ہوتا تھا۔پس خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے کامیابی کے دروازے کھول دیئے ہیں اور حسرتیں نکالنے کے سامان کر دیئے ہیں اب بھی اگر کوئی سستی کرتا ہے تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری ہے۔جو دوست اس وقت جا رہے ہیں ان کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ایسا کام ہے جس کے مقابلہ کا اور کوئی کام نہیں ہے۔اور صرف ملکانوں میں ہی تبلیغ کے متعلق میں یہ نہیں کہہ رہا بلکہ جہاں بھی کوئی اس کام کے لئے جاتا ہے وہ ایسا ہی ہے۔اگر کوئی امریکہ جاتا ہے جہاں کے لوگ تعلیم یافتہ اور علم والے ہیں تو اس کا درجہ اس مبلغ سے بڑا نہیں جو جاہل اور بے علم لوگوں میں جا کر تبلیغ کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کے نزدیک اس مبلغ کا درجہ جو بادشاہوں کو صلى الله