زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 193

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 193 جلد اول گے تو اس وقت ہمیں جو کامیابی ہوگی وہ اور بھی نمایاں ہوگی۔پس دوسرے لوگوں کا تھک کر پیچھے ہٹ جانا اور مشکلات سے گھبرا کر کام کو چھوڑ دینا ہمارے لئے گھبراہٹ کا موجب نہیں ہوسکتا۔ہاں اگر گھبراہٹ ہو سکتی ہے تو یہ کہ جس قدر کام کرنے والوں کی ضرورت ہے اس قدر نہ مل سکیں اور میں دیکھتا ہوں کہ لوگ اب پہلے کی طرح جوش و خروش کے ساتھ آگے نہیں بڑھتے۔بعض تو کہتے ہیں یہ لمبا کام ہو گیا ہے ہم کب تک اسے کرتے رہیں گے مگر یاد رکھو مومن کا یہ حال نہیں ہوتا کیونکہ مومن کے لئے آرام کرنے کی کوئی صورت نہیں۔مومن کا آرام اس کی موت کے بعد ہی ہے اور اسی کا نام مستعقر ہے۔مومن کی منزل مقصود مرنے کے بعد ہی ہے۔پس جب یہ صورت ہے تو خود سوچ لو کہ جو شخص منزل مقصود پہلے بیٹھ جاتا ہے وہ کب منزل تک پہنچ سکتا ہے۔مثلاً ایک شخص نے بٹالہ جانا ہو مگر وہ وڈالہ جا کر بیٹھ رہے تو نا کام ہی رہے گا۔ہاں جو شخص وڈالہ جانا چاہتا ہے وہ اگر وہاں جا کر بیٹھ جاتا ہے تو وہ منزل پر پہنچ گیا اور بٹالہ جانے والا وڈالہ پہنچ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں جو یہاں پہنچ کر اپنے مقصد میں کامیاب سمجھا گیا تو مجھے کیوں نہ کامیاب سمجھا جائے کیونکہ اس کی منزل مقصود بٹالہ ہے نہ کہ وڈالہ۔اسی طرح جب مومن کا مقصد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ مل جائے اور وہ اس طرح مل سکتا ہے کہ انسان مرنے تک اس کے ملنے کے لئے کام کرتا جائے تو وہ شخص جو مرنے سے پہلے اس کام کو چھوڑ کر بیٹھ جاتا ہے وہ کس طرح خدا تعالیٰ کو مل سکتا ہے۔پس یاد رکھو اور خوب یا د رکھو کہ مومن کے لئے یہ دنیا آرام کرنے کی جگہ نہیں اس کے لئے آرام کی جگہ وہی ہے جب اس کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں اور خدا تعالیٰ اسے بلا لیتا ہے کہ آ اور آ کر میرے فضل کے نیچے آرام کر۔جو لوگ اس کام کے متعلق ست ہو رہے ہیں اور پیچھے ہٹ رہے ہیں انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ یہ ان کے ایمان کی کمزوری ہے۔نو کر کہا کرتے ہیں کہ کام ہی کرنا ہے جو کام ہو گا وہی کریں گے یہی مومن کا حال ہونا چاہئے۔اگر خدا تعالیٰ ملکانوں میں ہی ہمیں فتح دے دے اور ان کو ہی ہمارے ذریعہ ہدایت ہو جائے تو ہمیں انہی لوگوں میں